118

سلطان نیوز نے گڑھ مہاراجہ کی عوامی شخصیات کے بارے تحریر کا جو سلسلہ شروع کیا ھے آج اس سلسلہ کی شخصیت ملک قبر اعوان سابق کونسلر سابق وائس چئرمین اور سابق نائب نا ظم کا تذکرہ کریں گے۔

سلطان نیوز نے گڑھ مہاراجہ کی عوامی شخصیات کے بارے تحریر کا جو سلسلہ شروع کیا ھے آج اس سلسلہ کی شخصیت ملک قبر اعوان سابق کونسلر سابق وائس چئرمین اور سابق نائب نا ظم کا تذکرہ کریں گے۔
۔……………………..
ملک قبراعوان کا خاندان 1947ء میں گڑھ مہاراجہ محلہ اعواناں والا میں آکر آباد ھوا ان کا خاندان سبز منڈی فروٹ کے کاروبار سے وابستہ ھے سیا سی طور پر ملک صاحب کے چچا ملک تجمل اعوان صاحب پہلی دفعہ گڑھ مہاراجہ کے سیال خاندان کی وجہ سے 1962اء میں ایوبی دور کے بلدیاتی الیکشن میں بی۔ ڈی۔ ممبر بنے ایوب کے صدارتی الیکشن میں محترمہ فاطمہ جناح کو ووٹ دیاملک تجمل صاحب عوامی آدمی تھے کئی بار کونسلر بنے ایک دفعہ آزاد حثیت سے قومی اسمبلی کا الیکشن بھی لڑا ان کے ساتھ غریب عوام نے وھی سلوک کیا جو سیاست میں غریب کسی بھی غریب امیدوار سےکرتے ھیں ۔
ملک تجمل اعوان نے اپنے سیاسی دور میں اعوان برادری کو ہمیشہ متحد رکھا اور دیگر برادریوں سے بھی اپنے عوامی سوچ انداز سیاست کی وجہ سے نام کمایا انہوں نے ہمیشہ سیال خاندان کی سیاست اور گروپ کا ساتھ دیا بعد میں یہ سیال خاندان کی متبادل تیار رکھو سیاسی پالیسی کا نشانہ بنے تو ان کے متبادل کے طور پر ملک قمبر اعوان صاحب کو سیال گروپ کا قرب حاصل ھوا یہ سیال خاندان کی نظر عنائت سے کونسلر بنے وائس چئرمین بنے نائب ناظم بھی بنے ان حالات میں ملک تجمل صاحب سیال خاندان سے دور ھوگئے اور صاحبزادہ گروپ کے قریب ھوگئے آج بھی ملک تجمل کے بیٹے اور اس کے دیگر دم بھرنے والے ملک قمبر صاحب کے خلاف برادری کے مخالف دھڑے میں کھڑے دیکھائی دیتے ھیں ۔
ملک صاحب کے خاندان کو 1947ء سے سیال خاندان کے خان نوازش علیخان کی پشت پناہی رھی ان کے بعد مظفر علی خان سیال اور اب خان عون عباس سیال کی سیاسی آشیر باد حاصل ھے ملک صاحب نے مظفر علی خان سیال کے دور اقتدار میں اپنے خاص قبیلہ کو بڑا نوازا محکمہ تعلیم میں بہت ملازمتیں دلائیں اس طرح یہ اپنے قبیلہ کی حد تک محدود ھو گیا باقی برادری آہستہ آہستہ ملک صاحب سے دور ھوگئی شہر کی دیگر برادریوں میں بھی یہ ملک تجمل کی جگہ پر نہ کر سکا اور اپنی اعوان برادری کو بھی متحد نہ رکھ سکا صرف اور صرف سیال خاندان کی نظر کرم پر سیاست کرتا رہا اور کبھی بھی عوامی سیاست پر بھروسہ نہ کیا جس کا نتیجہ یہ ھوا سیال خاندان کی حمائت و امداد کے باوجود سابقہ بلدیاتی الیکشن میں برادری کے ایک غیر معروف نوجوان ملک معظم اعوان سے ھار گیا جس کا سیال خاندان نےبھی افسوس کیا ملک معظم اعوان الیکشن جیت کے ملک غلام حیدر اعوان جس نے ملک قمبر اعوان کے خلاف اعوان برادری اور حلقہ کی دیگر برادریوں کو منظم کیا تھا ملک صاحب کی شکست کا موجب بنا تھا کو ساتھ لے کر خان عون عباس خان کے ڈیرے پر سلامی دینے گیا وھاں اس کو شرف قبولیت نہ ھوا پھرجب ملک قمبر کی شکست کے بعد اس کے بیٹے کو لیبر سیٹ پر عون عباس خان نے کونسلر بنوا دیا تو پھر ملک معظم اعوان کونسلر ھو کر ملک حیدر اعوان کی قیادت میں صاحبزادہ گروپ میں شامل ھو گیا عون عباس خان کو کافی سیاسی نقصان ھوا اب عوان برادری کا ایک مضبوط دھڑا ملک حیدر اعوان اور ملک معظم اعوان کی قیادت میں صاحبزادہ گروپ کے ساتھ ھے ایک اور موثر گروپ جس کی قیادت ملک شفقت اعوان حقیقی کزن ملک قمبر صاحب کرتے ھیں احمد پور سیال کے خان میر عباس خان کے سیال گروپ میں چلے گئے ھیں اس طرح ملک صاحب اعوان برادری میں سیاسی طور پر اپنے چند گھروں تک محدود ھو کر رہ گئے ھیں ملک قمبر کی تعلیم میٹرک ھے ساری زندگی سیال خاندان کے سیاسی ڈیرہ پر براجمان رھے ھیں ایک دو دفعہ ناراضگی بھی ظاھر کی لیکن پھر ڈیرہ سیال پر ھی مسکن بنائے رکھا سیال خاندان کے علاوہ علاقہ کا کوئی سیاسی گروپ ملک صاحب پر اعتماد نہیں کر سکتا ملک صاحب اب بیمار رھتے ھیں ان کے بیٹوں میں بھی کوئی ایسا نیہں جو برادری میں اعتماد پیدا کرے اپنے پیچھے لگا لے
ملک صاحب نے ڈیرہ کے باھر کبھی سیاست کی نہیں اس لئے عوامی سیاسی شعور ان سے متعلقہ مضمون ھی نہیں
جملہ گزارشات کا نچوڑ یہ ھے ملک صاحب سیال خاندان کی نوازشات کی وجہ سے سیاست میں آئے بہت سے مفادات لئے عوام میں کبھی اپنا سیاسی وجود قائم نہ کر سکے اور نہ ھی کوئی آئیندہ چانس نظر آتا ھے ۔
پس ان کی سیاست کا اول وآخر سیال خاندان سے وابستہ ھے۔
کہنے کو کوئی کچھ بھی کہتا پھرے حقیقت یہی ھے۔
شکریہ۔
آئیندہ ھفتہ اگلی تحریر ضرور پڑھیے گا ۔ سلطان نیوز

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں