259

شرم و حیا ریلیاں ہمارے قومی روایئے

شرم و حیا ریلیاں ہمارے قومی روایئے
____________________________
پچھلے کئی دنوں سے سوشل میڈیا پرعجیب و غریب پوسٹیں وائرل ہو رہی ہیں مذہبی لوگ خصوصی طور پر جماعت اسلامی والے ریلیوں کا اہتمام کرکے دوہائی دے رہے ہیں کہ معاشرہ سے شرم وحیا ختم ہو رہا ہے اسے بچائیں کہیں کہا جا رہا ہے کہ یورپ والے اپنی N.G.Os کے ذریعے ہمارے ملک میں بیشرمی اور بے حیائی کو پھیلا رہے ہیں اس کے بر عکس کچھ سیکولر طبقے عورتوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں وہ بلا وجہ مذہبی طبقے پر تنقید کرتے ہیں۔
ہماری سمجھ کے مطابق دونوں طبقات شرم و حیا کے وسیع تر مفہوم کو جان بوجھ کر پس پشت ڈال کر عورت کے لباس کی کمی پیشی۔ اونچ نیچ کٹائی سلائی ۔ تنگی۔ کشادگی وغیرہ تک ھی شرم وحیا کے وسیع تر مفہوم کو محدود کر رہئے ہیں جو کہ انسانی مہذب معاشرہ اور اسلامی تعلیمات سے رو گردانی کے مترادف ہے ہمارے نزریک بے شرمی و بے حیائی ہر وہ عمل ہے جو انسانی معاشرہ کے لئے مضر ہے مثلا”۔
جھوٹ بولنا۔
کم تولنا
ملاوٹ کرنا
رشوت لینا اور دینا
حرام کے پیسے سے حلال خریدنا۔
ذخیرہ اندوزی کرنا
میرٹ ذیبع کرنا
نا جائز تجاوزا ت کرنا
نمبر 2 ادویات بنانا فروخت کرنا
جعلی دودھ بنانا دودھ میں پانی ملانا فروخت کرنا
امتحانی پرچےلیک اوٹ کرنا امتحانی پرچے فروخت کرکے دولت کمانا
خوشامد کرنا خوشامد کروانا
کمشن کک بیک کھانا
بجلی چوری کرنا
بجلی کا بل نہ دینا
ٹیلی فون کا بل نہ دینا
شادی بیاہ پر ہوائی فائرنگ کرنا
حکومتی پابندی کے باوجود فولادی تار سے بسنت منانا
شادی بیاہ پر نمود نمائش کرنا
بچی والوں سے مانگ کر بھاری جہیز لینا
قطار نہ بنانا باری کا انتظار نہ کرنا
ٹریفک سگنل کو توڑنا
اور پیڈنگ کرنا
گاڑی پر جعلی نمبر پلیٹ لگانا
غیبت۔ چغلی۔ حسد کرنا
جعلی سیڈ۔ جعلی کھاد۔ جعلی زرعی ادوایات بنانا اور فروخت کرنا
سرکاری تعلیمی اداروں میں بچوں کو نہ پڑھنا اپنے پرائیویٹ سکولوں ۔ اکیڈمیوں۔ ٹیوشن سنٹروں میں بچوں کو داخلہ لینے پر مجبور کرنا
اپنے پسند کے مصنفین کی کتابیں اداروں میں لگوانا مخصوص بک سٹال پر فروخت کروانا بچوں کو لینے پر مجبور کرنا اور کمیشن کھانا
سکولوں کی وردیاں مخصوص شاپ پے رکھ کر فروخت کروانا کمیشن لینا مسجد و مدرسہ کے نام پر لوگوں سے رقوم بٹورنا لمبی لمبی کاریں خریدنا کوٹھیاں بنانا یتیموں کے نام پر چندے لے کر سیاست پر خرچ کرنا
درباروں مزاروں پر لنگر کے نام پر رقوم بٹورنا اور ذاتی تصرف میں لانا
حق کا ساتھ نہ دینا باطل کے ساتھ کھڑا رہنا
بے بس غریب مزدورں کسانوں کا استحصال کرنا۔اپنے کاروبار منافع کو آمدن کو چھپانا ٹیکس نہ دینا ۔
ملک کی دولت لوٹ کر بیرون ملک جائیدادیں بنانا۔
جو سیاست دان ملکی دولت لوٹ کر بیرون ملک جائیدادیں بنائیں ان کی اولادیں وہاں سکون سے عیاشی کریں ان کو زندہ باد کہنا اپنی آئیندہ نسلوں کے مستقبل سے بے پرواہ ہو جانا
یہ سب بے حیائی اور بے شرمی کے ذمرے میں داخل ھیں ھمادے مذہبی اور ترقی پسند طبقات اس طرف بھی کچھ توجہ دیں تو ان کا بھلا ہو گا اور معاشرہ میں سدھار آئے گا۔
نہیں تو بابا بہلے شاہ فرماتے ہیں۔
تسیں حج وی کیتی جاندے او۔
تے لہو وی پیتی جاندے او۔
کھو کے مال یتیماں دا۔
تسیں پیج مسیتی جاندے او۔
تسیں پھٹ دلاں دے سیندے نہں۔
تے ٹوپیاں سیتی جاندے او ۔
تسیں نفس تے چھری پھیردے نہں ۔
تے دنبے کیتی جاندے او ۔
ہن دسو تاں سہی بلہے شاہ نوں اے کی کیتی جاندے او ۔
وسلام شکریہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں