88

یہ وہ پاکستان نہیں جس کا ہمارے بزرگوں نے خواب دیکھا تھا۔ اس کا ذمہ دار کون۔ (گزشتہ سے پیوستہ)

یہ وہ پاکستان نہیں جس کا ہمارے بزرگوں نے خواب دیکھا تھا۔
اس کا ذمہ دار کون۔
(گزشتہ سے پیوستہ)
=============
کیا آج ھم کسی بچے کو اکیلے باہر بھیج سکتے ھیں ۔
کیا بے گناہ افراد مذہب ،فرقہ، برادری،قبیلہ،کی بنا پر دہشتگردی کا شکار نہیں ھو رہے۔ کیا یہ وہی ملک ھے جس کے بارے ہمارے آباو اجداد نے سوچا تھا کہ وہاں ان کی آئیندہ نسل کو بھوک و افلاس سے نجات مل جائے گی اور وہ با عزت طریقہ سے زندگی گزاریں گے۔
کیا یہ وھی ملک ھے جو عوامی جمہوریت کے لئے قائم ھوا تھا۔
کیا یہ وھی ملک ھے جو عوام کو بنیادی ضروریات بہم پہنچانے کے لئے معرض وجود میں آیا تھا۔
کیا یہ وھی ملک ھے جہاں حکمرانوں کو عوام کا غلام بن کر رہنا ھے۔
کیا یہ وھی ملک ھے جہاں اسلام نافذ کر کے اسے صیح معنوں میں فلاحی ریاست بنانا مقصودتھا۔
دوستو! انصاف کرو موجودہ پاکستان اس شکل میں ھے جو ھونا چاھیے تھا۔
جہاں تو مائیں دو وقت کی روٹی کے لئے اپنے جگر گو شوں کو فروخت کرنے پر مجبور ھیں ۔
جہاں تو کسی کی جان ومال عزت و آبرو محفوظ نہیں ۔
یہ تو وہ ملک ھے جس کا آدھا حصہ آزادی کے 22 سال بعد الگ کر دیا گیا۔
جہاں تو دہشتگردوں کے ہاتھوں ہزاروں افراد قتل کر دیئے گئے۔ پھر بھی حاکم وقت کہتے رھے ملک کے حالات معمول کے مطابق ھیں ۔ جہاں تو قتل و غارت گری ،چوری،ڈکیتی، رشوت، معمول کا عمل ھے۔
موجودہ پاکستان وہ تو نہیں جس کے لئے ہمارے آباو اجداد نے اپنا حال ہمارے کل کے لئے قربان کیا تھا۔
دوستو! اگر سب تمام باتیں ایسے ھی ھیں وہ پاکستان کہیں ھے جو ھمیں چاھئے۔
اس پاکستان کی خاطر قائد اعظم نے کینسر کے مرض میں مبتلا ھونے کے باوجود دن رات جدوجہد کی تھی ھمارے حکمرانوں کی وجہ سے قائداعظم کی روح شرمندہ ھوگی۔ کہ ایسی قوم کو آزادی کیوں دلوائی جو آزادی کے حصول کے لئے دی گئی قربانیوں کو چند برس کے اندر ھی بھول گئی۔ کیا ھم اس قابل ھیں کہ ھم پاکستان کو مزید تباھی سے بچا سکیں۔ جو ھماری طرف بڑھ رھی ھے۔ افسوس کہ ھمیں اس کا شعور نہیں ۔ ھم آج بھی ان خاندانوں کو زندہ باد کہہ رھے ھیں جنہوں نے ہمارا رزق لوٹا۔
ھم آج بھی ان خاندانوں کی حکمرانی کی بات کرتے ھیں جنہوں نے ھماری دولت لوٹ کر یورپ اور مشرق وسطی میں اپنی جائیدادیں بنائی کاروبار کئےاور اپنی اولادوں کو وہاں بسایا جو بڑے راحت و سکون اور شان شوکت سے وہاں زندگیاں بسر کر رہے ھیں۔
دوستو! ھم آج بھی ان طبقات کو زندہ باد کہے جا رھے ھیں جن کی تحریر و تقریر تنظیم و انجمن سازی نے ھم سادہ لوح مسلمانوں میں مذہب و فرقہ کی بنیاد پر منافرت پھیلائیں اور سیاسی جماعتیں بنا کر ہمیں ذہنی طور پر غلام بنایا اور ھماری نوجوان نسل کو دہشتگردی کی تر غیب دی ۔
دوستو! ھم آج بھی اس جاگیردارانہ اور سر مایہ دارانہ نظام کے بقاء کی جنگ لڑ رھے ھیں جس میں ہمارے نو جوان ڈگریاں ھاتھ میں لے کر بیروزگاری کا شکار ھیں ان پڑھ M.N.Aاور M.P.Aکے ڈیروں پر نوکری کے لئے بوڑھے باپ کو ساتھ لے جا کر دھکے کھانے پر مجبور ھیں ۔
ھم آج بھی اس نظام کا تحفظ کر رھے ھیں جہاں غریب کے لئے قانون اور امیر کے لئے اور غریب کے لئے تعلیم اور امیر کے لیے اور غریب کے ہسپتال اور امیر کے ہسپتال اور امیر کے لئے انصاف کے تقاضے اور غریب کے لئے اور ۔
ھم اب بھی اس نظام کو قائم رکھنا چاھتے ھیں جہاں ملازم ٹیکس دیتا ھے آقا ٹیکس کھاتا ھے۔ جہاں بیوروکریسی عوام کو غلام سمجھتی ھے اور خود حاکم بنی ھوئی ھے۔ جہاں تھانیدار،پٹواری اپنے علاقے میں ظل سبحانی بنے بیٹھے ھیں ۔
دوستو! اگر پاکستان کو قائداعظم کے خواب کی تعبیر بنانا ھے ۔ اس فرسودہ نظام کو مسمار کرنا ھو گا۔ ان حکمران خاندانوں کی باد شاہ ھت کو ختم کرنا ھو گےجنہوں نے 1947ء سے لے کر آج تک ھم پر حکمرانی کی ھے وھی ھمارے ہر روگ کے ذمہ دار ھیں ۔

دوستو! آج ھم عہد کریں ھمیں اس شخص کا ساتھ دیناھے جو فرسودہ نظام کے نا سور کو ختم کر دے جو ملک میں محض برائے نام جمہوریت نہیں صیح معنوں میں عوامی جمہوریت قائم کرے جس میں عوام کا راج ھو نوکر شاہی وڈیروں لٹیروں کا راج نہ ھو ۔
پھر سب کہہ سکیں یہ وھی پاکستان ھے جس کا خواب قائداعظم نے ھمارے بزرگوں کو دکھایا تھا۔ پھر
سب مل کر کہیں پاکستان زندہ باد
شکریہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں