87

یہ وہ پاکستان نہیں جس کا ہمارے بزرگوں نے خواب دیکھا تھا۔ اس کا ذمےدار کون

یہ وہ پاکستان نہیں جس کا ہمارے بزرگوں نے خواب دیکھا تھا۔
اس کا ذمےدار کون؟

سنا ھے تقسیم ہند سے قبل مسلمانوں پر بڑا ظلم ہوتا تھا۔ مسلمانوں نے ہندستان پر صدیوں حکمرانی کی مسلمانوں نے 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد 90 بر س تک انگریزوں کی غلامی میں زندگی بسر کی ۔ہندو اور سکھ انگریزوں کے اعلی کار بن گئے۔ مسلمانوں کی حثیت انگریز کے نزدیک غلام اور ہندو کے نزدیک نیچ ذات سمجھے جانے والی شودر ذات سے بھی بد تر تھی۔
مسلمان عورتوں کو بھوک اور مفلسی کے عالم میں ہندو سا ہوکاروں اور انگریز آقا کے برتن مانجھنےاورکپڑے دھونے پر مجبور کر دیا گیا۔ مسلمانوں پر ملازمت کے دروازے بند کر دیئے گئے ملازمت کے لئے جب کوئی اشتہار چھپتا تو اس پر تحریر ہوتا کوئی مسلمان درخواست دینے کی زحمت نہ کرے۔ مسلمانوں کی جائیدادیں ضبط کر لی گیئں ان کو اثاثوں سے محروم کر دیا گیا۔نوبت جہاں تک پہنچی شاہی خاندان کے افراد تک سڑکوں پر بھیک مانگتے نظر آئے یا پھر گدھوں کی طرح بوجھ اٹھا کر محنت مزدوری کرتے نظر آئے۔ اس دور غلامی میں مسلمانوں کی جان و مال اور عزت آبرو تک محفوظ نہ تھی۔
ان حالات میں مسلمانوں میں علیحدہ وطن کا شعور پیدا ہوا۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے مسلمانوں کو ایسے وطن کے حصول کے لئے قربانیاں دینے کے لئے تیار کیا ۔
جہاں ان کو روز گار کے وافر مواقع حاصل ہونگے۔
ان کی جان و مال عزت آبرو کو کوئی خطرہ نہیں ہو گا۔ ایسا وطن ہو گا جہاں ہوٹلوں کے باہر کتے اور مسلمان کا داخلہ ممنوع کا بورڈ آویزاں نہیں ہو گا۔
مسلمانوں کو آزاد وطن کا یہ خواب دکھایا گیا ۔
کہ ہر ایک کو پیٹ بھر کر کھانا ملے گا۔
تعلیم صحت کی بنیادی سہولتیں میسر ہونگی۔
آزاد وطن ایسا مقدس خطہ ارضی ہو گا کہ بیٹے کے باہر جانے کے بعد ماں کو یہ فکر دامن گیر نہ ہو گی کہ کوئی دہشتگرد بیٹے کو گولی نہ مار دے ۔
یہ ملک ایسا ہو گا جہاں مائیں بیٹی کو سکول و کالج بھیجنے کے بعد پریشان نہ ہو نگی کہ ان کی بچی بخیر و عافیت گھر واپس آئے گی کہ نہیں ۔
قائد اعظم نے ہمیں ایسی مثالی ریاست کا خواب دکھایا تھاکہ ہمارے بزرگوں نے اس جنت ارضی کے حصول کے لئے اپنی جان و مال عزت آبرو داو پر لگا دی ۔
آج ہمیں جو ملک پا کستان رہنے کو میسر ھے وہ مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان ھے۔ جس کے حصول کے لئے ہزاروں ماوں کے سامنے ان کے بچے ذبح کر دیئے گئے۔
ہزاروں نوجوان لڑکیاں ان کے گھر والوں کے سامنے ذلیل و رسوا ہوئیں ہزاروں عورتیں اپنی عزت و ناموس کی خاطر زندہ کنووں میں کود گئیں۔
ہزاروں عورتوں کو ان کے سامنے بیوہ کر دیا گیا۔
لاکھوں افراد کو ظلم و ستم کر کے ہجرت کرنے پر مجبور کر دیا گیا۔
1947ء میں پاکستان کی سر حد عبور کرنے والے خوش قسمت افراد کی تعداد ان افراد سے کئی گنا کم تھی جنہیں شہید کر دیا گیا وہ مجبوریوں کی وجہ سے وہاں سے نہ نکل سکےاور بعد میں ہندوؤں کی وحشت و بر بریت کا شکار ہوئے۔
دوستو! قائد اعظم محمد علی جناح نے پہلی دستور ساز اسمبلی کو واضع طور پر کہا تھا کہ وہ عوام کی جان ومال کا تحفظ یقینی بنائے۔
1947ء میں پاکستان توبن گیا آج 73 سال گزر جانے کے باوجود آزادی کے تقا ضے پورے نہیں ہو سکے ۔
شکریہ۔
باقی انشاء اللہ کل ضرور پڑھئیے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں