169

سلطان نیوز کی جانب سے گڑھ مہاراجہ کی عوامی شخصیات کے بارے لکھنے کا جو سلسلہ شروع کیا ھے آج اس سلسلہ کا دوسرے نام محترم را نا محمد اسلم سابق کونسلر متعدد بار ۔ سابق نائب ناظم۔ اور سابق چئیر مین بلدیہ گڑھ مہاراجہ کا ھے ۔

سلطان نیوز کی جانب سے گڑھ مہاراجہ کی عوامی شخصیات کے بارے لکھنے کا جو سلسلہ شروع کیا ھے آج اس سلسلہ کا دوسرے نام محترم را نا محمد اسلم سابق کونسلر متعدد بار ۔ سابق نائب ناظم۔ اور سابق چئیر مین بلدیہ گڑھ مہاراجہ کا ھے ۔
واضع رہے ادارہ سلطان نیوز انتہائی ذمہ داری سے اپنے نمائندوں کے ذریعے ریکارڈ اکٹھا کر کے تحریر شائع کرتا ھے اگر کسی دوست کو کوئی بات ناگوار گزرے ادارہ پیشگی معذرت خواہ ھے۔=============
رانا محمد اسلم صاحب ولد رانا عبدالحمید مرحوم محلہ راجپوتوں والا گڑھ مہاراجہ شہر کے رہائشی ہیں تعلیم ایف۔ اے ھے ان کا خاندان 1947ء میں یہاں آکر آباد ھوا ان کے چچا اور سسر رانابشیر احمد صاحب مرحوم اس خاندان کی نمایاں شخصیت تھی جو پہلی بار سجادہ نشین دربار سلطان باھو صا حبزادہ محمد حبیب سلطان صاحب کے کمیپ سے B.Dالیکشن لڑے سال 1970ء میں صاحبزادہ نذیر سلطان صاحب M.N.Aکا الیکشن لڑے ان کے نیچے امیدوار M.P. A محترم خان نوازش علیخان سیال مر حوم تھے ان کے مد مقابل ان کے سگے بھتیجے محترم خان ذوالفقار علیخان سیال مرحوم تھے جن کے M.N.A محترم خان محمد عارف خان سیال مرحوم صا حبزادہ جناب نذیر سلطان صاحب کے مد مقابل تھے اس وقت صا حبزادہ میاں غلام جیلا نی صاحب مرحوم دربار سلطان باھو کے سجادہ نشین تھے جو خان محمد عارف خان سیال اور ذوالفقار خان سیال کے ساتھ تھے اس طرح گڑھ مہاراجہ کی وہ راجپوت برادری جو رانا بشیر احمد صاحب کے عزیز اقارب تھے خان ذوالفقار سیال مرحوم کے ھم نوا ھوگئی خان نوازش علیخان کے خلاف رھی متعدد بار اس برادری کے خان نوازش علیخان سیال سے کئیMis hapsبھی ھوئے 1977ء کے الیکشن میں P.N.Aکے ٹکٹ پر خان صاحبان اکٹھے ھو کر صاحبزادہ گروپ کے مد مقابل آئے اس طرح علاقہ کی سیاست دو واضع سیاسی گروپس سیال گروپ اور صاحبزادہ گروپ میں بٹ گئی۔ خان نوازش خان صاحب اللہ کو پیارے ھو گئے تو سیال گروپ کی قیادت خان ذوالفقار علی خان سیال نے سنبھال لی پھر 1985ء کا غیر جماعتی الیکشن سیال گروپ اور صاحبزادہ گروپ نے ملکر لڑا اس طرح رانااسلم صاحب کی راجپوت برادری صا حبزادہ گروپ کے بھی قریب ھو گئی لیکن 1985ء کے الیکشن میں صاحبزادہ اور سیال گروپ کا اتحاد کرنے کا تجربہ کوئی اچھا نہ رھا تحصیل بھر کی سیال برادری نے خان عارف خان سیال اور خان ذوالفقار خان سیال کو ووٹ دئیے اس طرح نذیر سلطان صاحب الیکشن ہار گئے آئیندہ کے لیئے یہ سیاسی اتحاد ٹوٹ گیا کچھ عرصہ بعد رانا محمد اسلم صاحب کی راجپوت برادری واپس سیال گروپ میں آگئی اس وقت رانا برادری کی سیاسی نمائندگی رانا فقیر حسین کر رھے تھے رانا محمد اسلم صاحب اس وقت رانا فقیر حسین کے ظائری طور پر سیاسی ورکر تھے ان کی شناخت رانا فقیر حسین صاحب کی وجہ سے تھی جن کی تعلیم ایف۔ ایس۔ سی تھے اور چیئرمین بلدیہ تھے رانا صاحب کے والد محترم رانا عبدالحمید صاحب جو کے رانا فقیر حسین کے زیر اثر خان ذوالفقار خان سیال کی مہربانی سے خان محمد اکرم خان سیال کے مقابلہ میں کونسلر بنے ھوئے تھے فوت ھو گئے تو رانا فقیر حسین نے رانا محمد اسلم کو خان صاحبان کے قریب کردیا اس طرح ضمنی بلدیاتی الیکشن میں رانا محمد اسلم صاحب رانا فقیر حسین کی خصوصی مہربانی اور سیال گروپ خان ذوالفقار خان مرحوم کی خصوصی عطا سے کونسلر بن کر عملی سیاست میں آگئے لیکن رانا فقیر حسین کے ساتھ مل کر کبھی صاحبزادہ گروپ اور کبھی سیال گروپ میں رانا فقیر حسین کی ظاہری تابعداری کرتے رھے ۔ چونکہ سیال گروپ کی سیاست کا یہ بنیادی فلسفہ ھے کہ یہ اپنے کسی بھی وفادار سیاسی ورکر پر مکمل اعتماد نہیں کرتے ہمیشہ متبادل کی تلاش میں رہتے ھیں جس وجہ سے بہت سے متوسط کلاس کے عوامی با شعور سیاسی لوگ سیال گروپ سے شاکی رھےھیں رانا فقیر حسین بھی اس کلاس میں شامل تھے جو کہ سیال گروپ کو ان کا متبادل درکار تھا ادھر رانا محمد اسلم صاحب کا بھی یہ کلیم تھا کہ میری برادری ذیادہ ھے رانا فقیر حسین کا گڑھ مہاراجہ صرف ایک گھر ھے اس لئے سیال مہربانی کرکے مجھے اہمیت دیں اس طرح

جب دونوں طرف تھی آگ برابر لگی ھوئی۔
سیال گروپ نے رانا فقیر حسین کی بدل رانا محمد اسلم کو شرف قبولیت بخشا اس طرح رانا فقیر حسین آہستہ آہستہ سیال گروپ سے دور ھو گئے رانا محمد اسلم صاحب سیال گروپ کے قریب تر ھو گئے رانا فقیر حسین صاحب فصیل آباد سکونت پذیر ھوگئے لیکن آج بھی گڑھ مہاراجہ میں کافی سارے اپنے ھم خیال رکھتے ھیں راجپوت برادری میں بھی موثر دھڑا رکھتے ھیں لیکن اب رانا محمد اسلم صاحب کہنے تو رانا فقیر حسین کے سیاسی طور پر محتاج نہیں لیکن جس وارڈ سے الیکشن لڑتے ھیں رانا فقیر حسین ان کی مخالفت پر اتر آئیں تو ان کی کامیابی مشکل ھو گی ویسے رانا محمد اسلم صاحب کو ان کے وارڈ میں ھرانا کسی لوکل بندے کے بس کی بات نہیں کیونکہ ان کے مد مقابل پولنگ سٹیشن پر کسی لوکل امیدوار کا کھڑے ھو کر راجپوتوں کی نوجوان لڑکوں کا مقابلہ کرنا آسان نہیں رانا صاحب کی سیاست کا کوئی عوامی انداز نہیں یہ کبھی اپنے آپ کو ٹسٹ میں نہیں ڈالتے عوامی طاقت پر بھروسہ نہیں رکھتے ڈرائنگ روم کی سیاست کے ماہر ھیں یہ کسی بھی سیاسی گروپ میں ھوں مخالف سیاسی گروپ سے مکمل رابطہ رکھتے ھیں اقتدار حاصل کرنے کے لئے ہر حربہ استعمال کرتے ھیں ان کے نزدیک کوئی دوستی کوئی قرابت داری کوئی سیاسی بندھن کوئی مذھبی بندھن کوئی اخلاقی قدر حصول اقتدار کے مقابلہ میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا ۔
رانا فقیر حسین کے ساتھ حلف وفاداری کی بعد ان کے مقابل خان طالب حسین خان کے نیچے نائب ناظم کا امیدوار بن جانا اور رانا فقیر حسین کی شکست کا موجب بن جانا پھر رانا عطاءاللہ خان کے ساتھ ھوتے ھوئے سیال صاحبزادہ گروپ کی طرف سے ضلع کونسل کسان سیٹ پر امیدوار بن جانا ان کی ڈرائنگ روم سیاسی جوڑ توڑ کی واضع مثالیں ھیں۔
رانا صاحب سیاسی طور پر بڑے محتاط واقع ھوئے ھیں عوامی طور پر کبھی کھل کرتھانہ۔ تحصیل۔ کچہری۔ تعلیم۔ صحت۔ یا دیگر مسائل میں کھل کر کسی کے ساتھ کھڑے نہیں ھوتے کوئی کتنا ہی مظلوم کیو ں نہ ھو اور نہ ھی کبھی کسی ظالم کی مخالفت کھل کر کرتے ھیں خواہ وہ کتنا بڑا ظلم کیوں نہ کر لے عوامی معاملات میں کبھی کھل کر اپنی رائے نہیں دیتے خبرے کوئی ناراض نہ ھو جائے۔ رانا صاحب۔
چھاویں چھاویں مرنجا۔ مرنجا سیاست کرنے کے فنکار ھیں ۔
رانا صاحب اس حد تک بھی چلے جاتے ھیں اگر انہیں کسی کی خوشنودی درکار ھو ایک فون کال پر اپنے گروپ کی خواتین کی سیٹ قربان کر دیتے ھیں سابقہ الیکشن میں ایسا کیا ھے۔
ھمارے نمائندوں کے جائزہ کے مطابق یہ جس گروپ میں ھوتے ھیں ایک تو مخالف گروپ سے رابطہ رکھتے ھیں دوسرا ان کی کوشش ھوتی ھے اس سے متعلقہ گروپ میں جو بھی آئے ان کے تابع ھو کر رھے وگرنہ اس گروپ میں کسی کو برداشت نہیں کرتے اسی وجہ سے گڑھ مہاراجہ کے عوامی حلقوں میں ان پر تنقید ھوتی ھے ۔
جہاں تک یہ سوال ھے اپنے انداز سیاست اور دور اقتدار میں گڑھ مہاراجہ کے عوام کو کیا دیا اور گڑھ مہاراجہ کی نوجوان نسل کو کیا شعور و نظریہ ان کے اپنے طبقات کے بارے دیا اس کا جواب سادہ سا ھے گڑھ مہاراجہ کے عوام کو وھی کچھ دیا جو سیال خاندان نے چاھا چونکہ رانا صاحب کا اقتدار سیال خاندان ھی کی مرہون منت تھا دوسرا اگر گڑھ مہاراجہ کی نوجوان نسل کو ان کے حقوق کا شعور وادراک دینے کی کوشش کرتے اس کے لئے پہلے خود انہیں ذہنئ طور پر طبقاتی شعور کا مطالعہ کرنا پڑتا پھر نوجوانوں کو ان کے حقوق فرائض سے آگاھی دے سکتے تھے جو ان کا انداز سیاست ھی نہیں اگر یہ سوال کیا جائے گڑھ مہا راجہ کی نوجوان نسل کے مستقبل کے بارے اپنے دور اقتدار میں کیا کیا اس کا بھی بڑا معقول جواب ھے جب رانا صاحب نے اپنی برادری راجپوت قوم کے نوجوانوں کے بارے کبھی نہیں سوچا سوائے اپنی فورس بنانے اپنی تابعداری کروانے کے دوسری برادریوں کے نوجوانوں کے بار ے کیا سوچتے سوائے ھیلو۔ ھیلو کے۔
اب ھمارے سیاسی سروے کے مطابق عوام میں یہ بات زیر گردش ھے کہ صاحبزادہ گروپ میں ھوتے ھوئے رانا صاحب جناب عون عباس خان صاحب کو بھی اپنی سابقہ خدمات کا واسطہ دے کر ھاتھ ملانے کی کوشش میں لگے ھوئے ھیں سیاسی دانشور کہتے اس طرح موجودہ حالات میں کام نہیں چلے گا۔ ویسے رانا صاحب کی خواہش ھے کسی طرح دونوں سیاسی گروپ اسے تسلیم کر لیں اور کوئی ان کے مد مقابل نہ آئے بقول شاعر۔۔۔۔۔۔
حجرے شاہ مقیم اچ پئی جٹی عرض کرے۔
ہٹی سڑے کراڑ دی جتھے راتیں دیوا بلے۔
کتی مر ے فقیر دی جہڑی راتیں ٹائون ٹائون کرے۔
پنج ست مرن گوائنڈناں رہندیاں نو تاپ چڑے۔
سنجیاں ھو جان گلیاں تے وچ مرزا یار پھرے۔
آخر میں عرض ھے
رانا صاحب سیاسی جوڑ توڑ کر لیتے ھیں۔ مقدر کے دھنی ھیں اپنے عزیز و آقارب کی وجہ سے معاشی طور پر روٹی دانہ محفوظ ھے سیاست کے لیئےان کے پاس کافی وقت ھوتا ھے اس بے اصولی سیاست کے دور میں کچھ بھی ھو سکتا ھے ۔
آئندہ ہفتہ اگلی تحریر ضرور پڑھئے گا۔ سلطان نیوز
شکریہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں