203

کیا عوامل ھیں کہ ہم پاکستانی آج تک ایک قوم نہ بن سکے۔

کیا عوامل ھیں کہ ہم پاکستانی آج تک ایک قوم نہ بن سکے۔

۔
عرب حملہ آور جب ہندوستان آئے جہاں کی ذیادہ تر آبادی ہندو مذھب کی پیروکار تھی راجہ دہر نے عرب حملہ آوروں سے ہندوستان کے دفاع کی جنگ لڑی شکست کھا گیا مارا گیا۔ عربوں کا مذھب اسلام تھا ہندو مذھب اپنے ذات پات،چھوت چھات کے فلسفہ کی بنا پر اسلامی فکر مساوات اور اسلامی تعلیم میں معاشرتی و معاشی راواداری انسانی اقدار کی بلندی کا مقابلہ نہ کر سکا ساتھ ساتھ جہاں کے لوگ عربوں کے مفتوح اور باجگزار بھی ھوگئے تھے اس لئے ہندستان میں اسلام لوگوں نے قبول کرنا شروع کر دیا عربوں کے بعد ہندستان پرغزنوی پٹھان حملہ آور ھوئے ہندستان کو خوب لوٹااور چلے گئے ان کے بعد افغانستان سے غور کے شہاب الدین غوری نے با ضابطہ ہندستان پر حکومت قائم کی ان کے بعد دور سلاطین شروع ھو گیا جس میں ایبک، تغلق، خلجی۔ لودھی مسلم حکمرانوں کی حکومت رھی اس دوران صوفیاء کرام کے فلسفہ تصوف کے پر چار کی وجہ سے لوگ ان کے زیر اثر ھو کر مسلمان ھوتے رھے کیونکہ صوفیاء کا فلسفہ تصوف ہندو مذھب سے بہت ذیادہ متصادم نہیں تھا اس دوران ہندستان کی مرکزیت ختم ھو گئی ہندوستان ریاستوں میں بٹ گیا تو پھر افغانستان کے مغل جلا وطن ظہرالدین بابر جہاں وارد ھو گئے کئی سو سال تک مغل حکمرانی رھی مغلوں کے دور میں بھی صوفیاء کرام کی سرپرستی ھوتی رھی لیکن کچھ مغل حکمران اکبر وغیرہ نے سیکولر حکومت قائم کی لیکن جب اورنگ زیب کا دور آیا تو ہندو مسلم تضادات ابھرنے شروع ھو گئے صوفی ازم کے صوفیانہ فلسفہ وحدت الوجود جو ہندو مذھب کے کافی قریب تھا اس کی مخالفت شروع ھو گئی اس طرح اورنگ زیب عالمگیر کے زمانہ میں اسلامی شدت پسندی نے فروغ پایا جس وجہ سے مغل حکمرانی کی گرفت کمزور ھونا شروع ھو گئی اورنگ زیب کے بعد اس کے کمزور جا نشین ایک تو ہندستان کو متحد نہ رکھ سکے ہندستان دوبارہ ہندو، مسلم، سکھ ریاستوں میں بٹ گیااس طرح ہندو ، مسلم راجے آپس میں الجھنے شروع ھو گئے مغلیہ دور کے آخر میں انگریز، ولندیزی، پرتگیزی، فرانسیسی تا جر تجارت کی غرض سے ہندستان میں وارد ھو چکے تھے آہستہ آہستہ ولندیزی، فرانسیسی، پرتگالی کمپنیاں ہندستان چھوڑ گیئں اور انگریز ہندستان میں اپنے ھاتھ مضبوط کرتے گئے اس دوران سکھوں نے ہندستان کے بعض علاقوں پر اپنے آپ کو بہت مضبوط کر لیا خصوصا” پنجاب میں جو اس وقت پشاور تک تھا مسلمانوں پر ظلم وستم شروع کر دیااور انگریز بھی پوری طرح ہندستان کے معاملات میں داخل ھو گیا تھا چونکہ مغلیہ دور کے آخرمیں بابا گرونانک ہندو صوفی بزرگ کی بھگتی کی تحریک کے تحت سکھ مت پھیلا تھا جو بھی ایک صوفیانہ تحریک تھی اس کا ذیادہ ٹکراؤ مسلم صوفیانہ نظریات سے نہ تھا مسلم صوفیاء کرام مسلم شریعت کی تبلیغ کے ساتھ ساتھ صوفیانہ طرز تبلیغ میں بہت ذیادہ مذھبی رواداری کے قائل تھے لیکن شاہ ولی اللہ اور اس کے پیروکار سید احمدشہید، شاہ اسماعیل شہید اور ان کے جا نشینوں
کے نزدیک اسلام میں صوفی ازم کی کوئی گنجائش نہیں تھی نہ سمجھتے تھے یہ صوفیاء کے فلسفہ وحد ت ا لوجود کو توحید کے منفی سمجھتے تھے یہ لوگ سختی سے اسلامی شریعت کی پابندی کے قائل تھے اس طرح ہندستان کے مسلمان دو گروہوں میں بٹ گئے آگے چل کر صوفی ازم کے قائل گروہ نے درباروں ، مزاروں اور سجادہ نشینوں کا ماننے والا طبقہ عوامی طبقہ پیدا کیا اس طبقہ نے بریلوی مکتب فکر کی بنیاد مہیا کی اسی طرح شریعت کے اصولوں پر سختی سے کاربند ھونے والےصوفی ازم کے رواداری کے اصولوں کے مخالف شاہ ولی اللہ کے
افکار کے قائل عوامی طبقہ نے دیوبندی مکتب فکر کی بنیاد مہیا کی اس طرح ہندستان کی اکثریتی مسلم آبادی بریلوی اور دیوبندی دو سنی فرقوں میں بٹ گئی اسی طرح ایران سے آئے ھوئے کچھ علماء کی وجہ سے جو مغل حکمران ھمایوں کے دور میں آنا شروع ھوئے ہندستان میں شیعہ مکتب فکر مسلمانوں میں متعارف ھوا اسی طرح عرب سے کچھ علماء جو محمد بن عبدالوہاب کے فلسفہ توحید سے متاثر تھےان کی تعلیمات نے ہندستان میں اہلحدیث مسلک کو متعارف کروایا اس طرح ہندستان کے فقہ حنفی کے سنی مسلمان بریلوی۔ دیوبندی۔ فقہ جعفری کے شیعہ اور غیر مقلد اہلحدیث مسلمان 4 فرقوں میں بٹ گئے اور ان کی سیاسی اور مذہبی جماعتیں بھی بن گئیں تحریک پاکستان کے دوران بھی ان جماعتوں نے اپنے اپنے انداز میں سیاست کی اور ہندستان کی آزادی کی جنگ لڑی مسلمانوں کا یہ فکری تضاد پاکستان میں آج تک موجود ھے ۔پاکستان میں جب بھی کوئی اسلامی لاء کے نفاذ کی بات ھوتی ھے تو مسلمانوں کی یہ فرقہ بندی آڑے آتی ھے تحریک پاکستان کے دوران مسلم لیگ والوں نے یہ نعرہ تو لگایاکہ۔ مسلم ھے تو مسلم لیگ میں آ۔
اور علامہ صاحب کا کلام بھی گونجاکہ۔
ایک ھوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے۔
لیکن بہت سی مسلم دین پرست جماعتیں مسلم لیگ کے خلاف تھیں ان کے نزدیک قوم وطن کے باشندوں کی وطنیت سے بنتی ھیں مذھب سے نہیں اس لئے مولانا ابوالکلام آزاد۔مولانا حسین احمد مدنی۔ جیسے نامور علماء ہندستان میں بسنے والے تمام انسانوں کو خواہ وہ کسی بھی مذھب سے ھوں ایک قوم تصور کرتے تھے اس لیے مسلم لیگ کے دو قومی نظریہ کے خلاف رھے کہ ہندو اور مسلم دو الگ الگ قومیں ھیں عملی طور پر آج بھی ھم پاکستانی وطنیت کی بنیاد پر قوم بننے یا بنانے کی کوشش نہیں کرتے کیونکہ ھم میں فرقہ بندی کی بنیاد پر سیاسی جماعتیں مسلمانوں کو ایک مرکز پر اکٹھا ھو نے ھی نہیں دیتی پاکستانی قوم تو بعد کی بات ھے ھم تو مسلمان قوم ھی نہیں بن پا رھے۔ پاکستانی قوم نہ بننے میں یہ بیماری نمبر1 ھے
اب ھمارے حصول پاکستان کے بعد پاکستان کے اندر ھم لوگ مزید دو گروہوں میں تقسیم ھوئے لوکل اور مہاجر تقسیم ھند کے بعد جو لوگ ھجرت کرکے
مملکت خداداد پاکستان میں آئے آج تک ھم اس تفریق کو ختم نہیں کر پا رھے جب کہ ھجرت کرکے آئے ھوئے مسلم خاندانوں کی اولادیں اب پاکستان میں پیدا ھو کر 70 سال کی عمر میں پہنچ چکی ھیں اب ان کی بھی اولاد جوان ھے ھمارے سیاسی نظام میں آج بھی لوکل مہاجر کے نعروں پر سیاست ھوتی ھے بعض مفاد پرستوں نے تو اب اس بنیاد پر سیاسی پارٹیاں بنا رکھی ھیں یہ پاکستانی قوم نہ بننے میں بیماری نمبر2 ھے
پاکستان بننے کے بعد پاکستان میں جو طبقاتی نظام قائم ھے اسے توڑنے کی کوشش کسی نے نہیں کی پاکستان میں بڑی بڑی جاگیروں اور زمینداروں کی بنا پر سرداری اور قبائلی نظام قائم ھے کہیں لغاری۔ کہیں مزاری۔ کہیں دریشک۔ کہیں کھتران ۔ کہیں بزدار۔ کہیں کھوسے۔کہیں جتوئی۔ کہیں زرداری۔ کہیں چانڈیو۔ کہیں جام ۔کہیں سید۔ کہیں مہر۔ کہیں ارباب۔ کہیں کھوڑو۔ کہیں وسان ۔ کہیں تالپور۔کہیں بھٹو۔ کہیں بگٹی۔ کہیں رئیسانی۔ کہیں رند۔ کہیں جمالی ۔کہیں مری۔ کہیں کھتران کہیں منیگل۔ کہیں خٹک۔ کہیں مروت۔ کہیں خان ۔ کہیں نواب۔ کہیں وڈیرے۔ کہیں خانزادے۔ کہیں شہھزادے۔ کہیں صاحبزادے۔ کہیں نواب زادے۔ اپنی اپنی سٹیٹس بنا کر بیٹھے ھوئے ھیں اور پاکستان کی راج نیتی کے مالک ھیں یہ لوگ اپنی دوکاندار یاں کیوں ختم کریں گے جب تک یہ دوکانداری ختم نہیں ھوتی ھماری طبقاتی تقسیم ختم نہیں ھوتی ھم پاکستانی کیسے ایک قوم بن سکتے ھیں اسی طبقاتی تقسیم نے ھمیں سندھی۔ بلوچی۔ پختون۔ سرائیکی پنجابی میں تقسیم کیا ھوا ھے اس تعصب کی بنا پر پاکستان میں جاگیردارانہ سیاست کا وجود ھے اس بیماری کو ختم کئے بغیرپاکستانی ایک قوم نہیں بن سکتی یہ نمبر 3 بیماری ھے
اب سب سے خطرناک بیماری نمبر4 ھمارابرادری ازم ھے ھم کہیں جٹ۔ کہیں راجپوت۔ کہیں ارائیں ۔ کہیں گجر۔ کہیں ڈوگر۔ کہیں بلوچ۔ کہیں اعوان۔ کہیں شیخ۔کہیں پٹھان میں بٹے ھوئے ھیں ان ذاتوں اور برادریوں میں سرمایہ دار اور زمیندار طبقہ ذات برادری اور قبیلہ کے تعصب کو پھیلا کر پاکستان میں سیاست کرتا ھے یہ طبقہ کیوں اپنی سیاسی گرفت کو کمزور کر ےگا دوستو! یہ ھیں عوامل جس وجہ سے ھم ایک قوم نہیں بن پا رھے اس کا تریاق یہ ھے۔
1۔ پاکستان سے جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ۔
2۔ پاکستان سے فرقہ بندی کی بنیاد پر بنی ھوئی جملہ سیاسی جماعتوں کا خاتمہ
3۔ پاکستان میں مزدور کسان محنت کش طبقات کی انجمنیں اور تنظیموں اور دیگر سو شل تنظیموں کی ھر سطح پر حوصلہ آفزائی ۔
4۔ پاکستان بھر میں سکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طلباء یونینوں کا قیام کسی مذھبی۔ لسانی۔ بنیاد پر تنظم سازی پر سخت ترین پابندی ۔
5۔ ملکی سیاست میں ذات برادری۔قبیلہ۔ مذھب۔ فرقہ۔ علاقائی نعروں پر سیاست کرنےوالوں کے خلاف نا اہلیت کا قانون ۔نمبر6
پاکستان میں یکساں نظام تعلیم اورحکومت کے بنائے ھوئے قانون خواہ کسی بھی حوالہ سے ھو اس کی سختی سے مکمل عملداری۔ نمبر 7 پاکستان کی جملہ سیاسی پارٹیوں میں ھر چار سال بعد الیکشن لازمی قرار دیئے جائیں کوئی پارٹی لیڈر صرف دو دفعہ پارٹی سربراہ بن سکے تیسری دفعہ اس پر پارٹی الیکشن لڑنے پر بھی پابندی ھو ۔

ملک میں ھر 5 سال بعد وقت مقررہ پر انتخابات پارٹی بنیادوں پرمکمل آزاد اور شفاف اور منصافانہ اور غیر جانبدارانہ ھوں
محترم دوستو! مضبوط اعصاب کا کوئی پاکستانی ادارہ یا حکمران اگر مذکورہ بالا معروضات پر عمل کروا دے تو ھم پاکستانی ایک قوم بن سکتے ھیں وگرنہ ھم اس خطہ میں بسنے والے لوگوں کا ایک ھجوم ھیں قوم نہیں ۔
شکریہ
خدا ھم سب کو اپنے حفظ و اماں میں رکھے۔اور مملکت تخداداد پاکستان کو تا قیامت قائم ودائم رکھے
واسلام

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں