122

ترک صدر رجب طیب اردوان کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں پاکستان کے عوام کو نمائندہ ایوان کے توسط سے سلام محبت پیش کرتا ہوں، مشترکہ اجلاس سے خطاب کا موقع فراہم کرنے پر سب کا شکر گزار ہوں، ج

س طرح سے پاکستان میں پرجوش استقبال ہوا اور مہمان نوازی ہوئی اس پر پوری پاکستانی قوم کا شکر گزار ہوں۔

پاکستان آکر کبھی خود کو اجنبی محسوس نہیں کرتا، پاکستان میرے لیے دوسرے گھر کا درجہ رکھتا ہے، آج ترکی اور پاکستان کے تعلقات قابل رشک ہیں۔

کشمیر ترکی کے لیے وہی ہے جو پاکستان کے لیے ہے، پاکستان کا درد ترکی کا درد ہے اور پاکستان کی خوشی ترکی کی خوشی ہے۔

بھارت کے یکطرفہ اقدامات سے کشمیری بھائیوں کی تکالیف میں اضافہ ہوا لیکن مسئلہ کشمیر کا حل جبری پالیسیوں سے نہیں بلکہ انصاف سے ممکن ہے۔

ترک صدر نے کہا کہ مشکل کی ہر گھڑی میں پاکستان کی جانب سے ساتھ دینے پر ان کے شکر گزار ہیں اور ماضی کی طرح مستقبل میں بھی دونوں ممالک کا تعاون اور ساتھ جاری رہے گا۔

پاکستان اور ترکی دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک ہیں، انسداد دہشت گردی کے معاملات میں ہم پاکستان کے ساتھ تعاون کو آئندہ بھی جاری رکھیں گے اور تمام تر دباؤ کے باوجود ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کو بھرپور حمایت کا یقین دلاتا ہوں۔

رجب طیب اردوان نے کہا کہ پاکستانی حکومت کے مثبت اقدامات سے سرمایہ کاری اور تجارت کا ماحول سازگار ہو رہا ہے لیکن اقتصادی ترقی چند دنوں میں حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے مسلسل جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے۔

پاکستان اور ترکی کی دوستی مفاد پر نہیں بلکہ عشق و محبت پر مبنی ہے، پاکستانی قوم نے جس طرح اپنا پیٹ کاٹ کر ہماری مدد کی تھی اسے کبھی فراموش نہیں کر سکتے، اللہ سے دعا ہے کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان محبت ہمیشہ قائم رہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں