158

شوگر کے مریضوں کا لبلبہ کام کرنا بند نہیں کرتا! جدید تحقیق!

شوگر کے مریضوں کا لبلبہ کام کرنا بند نہیں کرتا!
جدید تحقیق!

شوگر کے مرض کے بارے میں عرض کرتا چلوں کہ اب سے کچھ عرصہ پہلے تک میڈیکل سائنس کے مطابق شوگر کا مرض اس لئے ہوتا ہے کہ انسان کا لبلبہ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے اور جسم میں غذا یعنی کاربوھائیڈریٹ سے گلوکوز بنانے والا ھارمون انسولین کی غیر موجودگی کی وجہ سے یہ گلوکوز یا شوگر جسم میں اسٹور ہونے کے بجائے خون میں شامل ہوکر بے شمار پیچیدگیاں پیدا کرتی ہے۔ انسولین یا تو ضرورت سے کم پیدا ہوتی ہے یا بالکل ہی پیدا نہیں ہوتی۔ یہ ہمارے خون میں گلوکوز کی مقدار کو مناسب نارمل لیول پر رکھتی ہے۔ جبکہ ہمارے حکما حضرات اور خاص طور پر طب صابر کے ماہرین ہمیشہ یہ کہتے تھے کہ لبلبہ کام کرنا نہیں چھوڑتا بلکہ شوگر کی کچھ دوسری وجوہات ہوتی ہیں۔ بہرحال اب میڈیکل کی جدید ترین ریسرچ کے مطابق شوگر کے مرض میں انسانی لبلبہ واقعی کام کرنا بند نہیں کرتا بلکہ مسلسل انسولین خارج کرتا رہتا ہے لیکن کولیسٹرول کی طرح چربی کا ایک خاص قسم کا مالیکیول سیرامائڈ Ceramide لبلبے کی نالیوں میں جم کر انسولین کا راستہ بند کردیتا ہے جس کی وجہ سے ذیابیطس 2 ٹائپ کا مرض ہوتا ہے جس میں مریض کو روزانہ انجکشن کی صورت انسولین لینا پڑتی ہے۔ مطالعہ کی کثرت سے ملنے والے شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ سیرامائیڈ کم از کم تین مختلف میکانزم کے ذریعے ذیابیطس میں اہم کردار ادا کرتا ہے: لبلبے کے β-سیل اپوپٹوس کو دلانا، انسولین کے خلاف مزاحمت میں اضافہ، اور انسولین جین کے اظہار کو کم کرنا۔
اگر دواؤں کی مدد سے یہ ceramide ختم کردیا جائے تو شوگر کا مرض ختم ہو کر انسان دوبارہ نارمل زندگی گزار سکتا ہے۔ آجکل لیبارٹریز میں چوہوں پر تجربات جاری ہیں اور ذیابیطس کے مریض بہت جلد خوشخبری سنیں گے۔ ڈاکٹر حضرات جسم سے یہ سیرامائڈ نامی چربی ختم کرنے کی ادویات بنانے میں تقریبا” کامیاب ہوچکے ہیں اور بہت جلد یہ مرض صرف ماضی کا حصہ بن جائے گا۔ کچھ ایسی ھربز یعنی جڑی بوٹیاں بھی ہیں جو سیرامائڈ کو ختم کردیتی ہیں۔
ڈاکٹر حضرات سیرامائڈ کے خاتمے کے لئے کچھ غذائیں بھی تجویز کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر حضرات ہمیشہ سے شوگر کے مریضوں کے لئے لمبی واک تجویز کرتے رہے ہیں۔ تو بس جسم میں کسی بھی قسم کی مضر صحت چربی جمع نہ ہونے دیں۔ ہم جو غذائیں لے رہے ہیں ان میں یہ ریفائنڈ آئل سب سے زیادہ مضر اور جسم میں پیچیدہ و خطرناک بیماریوں کا سبب ہے۔ ریفائنڈ آٹا، ریفائنڈ شوگر، ریفائنڈ آئل اور ریفائنڈ نمک۔ ان چار چیزوں کو اپنی زندگی سے نکال دیجئے۔ کیونکہ اگر آپ صحتمند ہیں تو یہ تمام اشیا ہضم ہوکر جسم میں گلوکوز کی صورت جمع ہوتی رہتی ہیں اور جب سے گلوکوز جو کہ ہمارے لیور میں اسٹور ہوتا رہتا ہے ایک خاص مقدار سے بڑھ جاتا ہے تو پھر یہ چکنائ یا چربی کی صورت جسم میں اکٹھا ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ یہی چربی فیٹی لیور بناتی ہے۔ خون میں خراب کولیسٹرول بنتا ہے جس کی وجہ سے جسم میں موجود تمام نالیاں تنگ ہونے لگتی ہیں۔ بلڈ پریشر، قلب اور شوگر کے امراض پیدا ہوجاتے ہیں۔ حکیم ایس ایم اقبال فرماتے ہیں کہ جسم کی تمام تر بیماریوں کی دو وجوھات ہوتی ہیں وہ یہ کہ یا تو جسم کی کوئ نالی یا نالیاں ضرورت سے زیادہ کشادہ ہوجائیں یا پھر جسم کی نالیاں نارمل کے مقابلے سکڑ کر چھوٹی ہوجائیں یا کوئ نالی بند ہوجائے۔ اب ہم یہی دیکھتے ہیں کہ امراض قلب دل کی نالیوں کے تنگ ہونے سے پیش آتے ہیں۔ اب شوگر کا بھی پتہ چل گیا کہ یہ لبلبے کی نالیوں میں تنگی یا رکاوٹ کی وجہ سے ہوتا ہے۔ وغیرہ۔
قابل حکیم حضرات شوگر کے مرض کا علاج کرلیا کرتے ہیں کیونکہ وہ ہمیشہ یہی تھیوری لے کر چلے کہ لبلبہ کبھی کام کرنا نہیں چھوڑتا۔
اب اگر ایک نارمل بندہ ہے جو مناسب مقدار میں اعتدال کے ساتھ میٹھا کھاتا ہے تو اس کو شوگر کا کوئ خطرہ نہیں ہے۔ لیکن بے تحاشہ میٹھا کھانا اور ریفائنڈ آٹا یعنی میدہ سے بنی اشیا کھاتا ہے تو لامحالہ اس کے جسم میں گلوکوز کی مقدار بڑھے گی۔ پھر یہ گلوکوز چربی بنے گا اور پھر یہ چربی مختلف بیماریوں کا سبب بنے گی۔ پتے کی پتھری بھی دراصل کولیسٹرول یا جمی ہوئ چکنائ ہی ہوتی ہے۔ جگر کے خلیے سیرامائڈز، فیٹی لپڈ مالیکیولز پیدا کرتے ہیں جو انسولین کے خلاف مزاحمت کا سبب بن سکتے ہیں۔

کچی سبزیوں کا سلاد روغن زیتون کی ڈریسنگ کے ساتھ لازمی کھائیں، ہر طرح کے پھل کھائیں۔خاص طور پر امرود، بیر، جامن، لوکاٹ، کینو، گریپ فروٹ اور انار ، ایواکیڈو، شہتوت انجیر وغیرہ۔ سبزیوں میں کچی بروکلی، بندگوبھی،السی کے بیج، سیب کا سرکہ، اس کے علاوہ بغیر چھنے دیسی آٹے کی روٹی کھائیں۔ خاص طور پر جوار باجرہ اور جو کو ضرور اپنی غذا کا حصہ بنائیں۔ یہ جوار باجرہ اور جو خون سے کولیسٹرول اس طرح چوس لیتے ہیں جیسے کہ اسفنج پانی چوس لیتا ہے۔ آجکل جو ملٹی گرین آٹا ہے اس میں یہ تمام اناج شامل ہوتے ہیں۔ کالے چنے کا آٹا بھی بہت بہترین ہے۔ آپ یہ کرسکتے ہیں کہ پانچ حصہ گندم، اور ایک ایک حصہ باقی اناج ملاکر آٹا بنا لیں۔ پانچ کلو گندم۔ ایک کلو باجرہ، ایک کلو جوار، ایک کلو جو، ایک کلو کالے چنے اور ایک کلو مکئ۔ ان سب کو ملا کر آٹا بنالیجئے۔ اسی کی روٹی کھائیں۔ گلابی نمک کھیوڑہ والا استعمال کریں۔ آئل صرف سرسوں یا تل کا یا زیتون کا یا مکئ کا استعمال کریں۔ میٹھے میں گڑ دیسی شکر یا شہد وغیرہ استعمال کریں تو یہ صحتمند جسم کی ضمانت ہے۔
چاول بھی کھائیں لیکن ایسے چاول جن کو ابال کر ان کا پانی نکال دیا گیا ہو۔ یاد رکھئے کہ سب سے زیادہ خطرناک چیز فرائ شدہ کاربوھائیڈریٹس ہیں۔ جیسے کہ میدہ یا سفید آٹے کے پراٹھے۔ پُوریاں، یہ سارے کا سارا جسم میں جاکر گلوکوز اور چکنائ بنے گا۔ اسی طرح فرنچ فرائز، سموسے وغیرہ۔ تلے ہوئے یا فرائ شدہ کاربوھائڈریٹس اپنی زندگی سے نکال دیجئے۔ اسی طرح پلاؤ بریانی جس میں چاولوں کے ساتھ چکنائ شامل ہوتی ہے۔ اگر افورڈ کرسکتے ہیں تو ائر فرائر استعمال کیجئے جس میں بغیر گھی تیل کے فرائ کرسکتے ہیں۔ رات کھانے کے بعد کم از کم چالیس سے پچاس منٹ کی واک کو لازم کرلیجئے۔
لازمی طور پر خالص زیتون کا تیل دو چمچ پینا اپنی عادت بنالیں۔ یہ ہمارے جسم سے خراب کولیسٹرول ختم کردیتا ہے۔
شوگر کے مریضوں کے لئے بہرحال خوشخبری ہے کہ جلد سیرامائڈ کو ختم کرنے والی دوا آنے والی ہے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم سب کو ان بیماریوں سے محفوظ فرمائے۔
آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں