196

کسی طرح دکان کے اندر لے جانے کی کوشش کی تاکہ ان کو پولیس کے حوالے کیا جاسکے۔ اسی دوران ان عورتوں نے اپنے کپڑے اتارنے شروع کردیے کیونکہ یہ دکھانا چاہ رہی تھیں کہ دکانداروں نے ان پر تشدد بھی کیا اور ان کے کپڑے بھی اتار دیے۔ ویڈیو میں عورت اپنے کپڑے خود اتارتی نظر

ہر واقعے کے 2 زاویے ہوتے ہیں جن میں ایک ہم کو نظر آجاتا ہے اور دوسرے سے ہم نظریں چراتے ہیں۔ آج فیصل آباد میں خواتین پر تشدد کا جو معاملہ آیا اور میڈیا نے اسے یکطرفہ پیش کیا اس کا ایک الگ زاویہ بھی دیکھنا ہوگا۔
فیصل آباد اور اس جیسے کئی شہروں میں چور عورتوں کے گروہ گھومتے ہیں۔ کسی بھی دکان میں گھس جاتے ہیں ، بغیر کسی اسلحہ کے چوری کرتے ہیں اور دکاندار شکلیں دیکھتا رہ جاتا ہے کیونکہ یہ عورتیں ہوتی ہیں اور اپنی صنف کا ناجائز فایدہ اٹھاتی ہیں
سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھیں کہ کس طرح یہ عورتیں دکان میں چوری کے لیے داخل ہوئیں۔ چیزیں اٹھانے لگیں ۔ دکاندار کے ردعمل سے ظاہر ہورہا ہے کہ اس کے ساتھ یہ واقعہ پہلی بار پیش نہیں آیا۔ اس نے پہلی کوشش میں ان عورتوں کو دکان کے اندر بند کرنے کی کوشش کی۔ جب یہ کوشش ناکام ہوئی تو اس نے تشدد کاسہارا لیا اور ان کو پکڑ کر کسی طرح دکان کے اندر لے جانے کی کوشش کی تاکہ ان کو پولیس کے حوالے کیا جاسکے۔
اسی دوران ان عورتوں نے اپنے کپڑے اتارنے شروع کردیے کیونکہ یہ دکھانا چاہ رہی تھیں کہ دکانداروں نے ان پر تشدد بھی کیا اور ان کے کپڑے بھی اتار دیے۔ ویڈیو میں عورت اپنے کپڑے خود اتارتی نظر آرہی ہے۔
عورتیں چونکہ پروفیشنل چور تھیں تو وہ دکانداروں کے قابو نہیں آرہی تھیں ۔ اس پر دکاندار نے تشدد کا راستہ اپنایا۔ یہ تشدد میڈیا پر ہائی لیٹ ہوا اور پھر بریکنگ نیوز بن گئی۔
آخر کیوں کوئی اپنے حق حلال کی کمائی کو اس طرح جانے دے اور وہ بھی اس طرح کے یہ وارداتیں ان کے ساتھ متواتر ہورہی ہوں۔ یہ اس واقعے کا دوسرا رخ ہوسکتا ہے۔
ہر بار مرد ہی ظالم اور عورت مظلوم نہیں ہوتی۔ یہ بات سمجھنی چاہیے ہوگی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں