45

اسلام آباد : سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ سے نہیں کروائے جاسکتے: سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس پر رائے دیدی

اسلام آباد : سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ سے نہیں کروائے جاسکتے: سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس پر رائے دیدی۔

سپریم کورٹ نے سینیٹ الیکشن سے متعلق صدارتی ریفرنس پر رائے دے دی۔

سپریم کورٹ نے اپنی رائے میں کہا ہے کہ سینیٹ الیکشن آئین کے تابع ہیں لہٰذا یہ الیکشن آئین کےمطابق ہوں گے۔

سپریم کورٹ نے یہ رائے ایک چار سے دی ہے اور سپریم کورٹ کے جج جسٹس یحییٰ آفریدی نے اختلاف کیا ہے۔

عدالت نے اپنی رائے میں کہا ہےکہ سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ سے نہیں کروائے جاسکتے لہٰذا یہ انتخابات قانون کے بجائے آئین کے تحت ہوں گے۔

سپریم کورٹ نے اپنی رائے میں کہا ہےکہ الیکشن کمیشن شفاف الیکشن کے لیے تمام اقدامات کر سکتا ہے، انتخابی عمل سے کرپشن ختم کرنا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، تمام ادارے الیکشن کمیشن کےساتھ تعاون کے پابند ہیں، الیکشن کمیشن کرپشن کے خاتمے کے لیے تمام ٹیکنالوجی کابھی استعمال کر سکتا ہے۔

عدالتِ عظمیٰ نے کہا ہےکہ الیکشن کمیشن کے پاس اختیار ہے کہ وہ کرپٹ پریکٹس کے خلاف کارروائی کرے، تمام ایگزیکٹواتھارٹیز الیکشن کمیشن سے تعاون کی پابندہیں، الیکشن کمیشن 218 تین کے تحت کرپشن روکنے کے تمام اقدامات کرے۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ ابھی عدالت نے مختصر فیصلہ جاری کیا ہے اور تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

معزز چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ اپنے فیصلے میں قرار دے چکی ہےکہ سیکریسی کبھی بھی مطلق نہیں ہوسکتی اور ووٹ ہمیشہ کےلیےخفیہ نہیں رہ سکتا، ووٹنگ میں کس حدتک سیکریسی ہونی چاہیے یہ تعین کرنا الیکشن کمیشن کاکام ہے، ذرائع

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں