225

سابق وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی کی اپنے بیٹے کوآخری وصیت ۔

سابق وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی کی اپنے بیٹے کوآخری وصیت ۔۔۔۔
عمر! غور سے سن، یہ سیاسی وراثت تمارے سپرد کر رہا ہوں!

ابا، اللہ پاک حیاتی و تندرستی عطا فرمائے،آمین۔

نہیں بیٹا، اشکبار آنکھیں تب ہوئیں، جب میر عمر خان کی آنکھوں میں آنسو دیکھے فرید اللہ خان کو بلکتے جاوید خان کو سسکتے اور شاہنواز خان کو روتے دیکھا

باپ،بیٹا اس وقت روئے جب ممتا کی سسکیاں سنائی دی۔

عمر! خیال رکھنا میری سیاست کا، اور بھرم رکھنا اس تعلق کا!

سوچتے ہو کہ دنیا لُٹ گئی، گھبرانہ نہیں عقابوں سے،
شاہین ہو تم! دنیا ہے یہ تمہاری،
ان ساتھ جعفرآباد نصیرآباد صحبت پور کے تمام برادریاں تمیں سونپ رہا ہوں
ان سب کو اپنے ساتھ ملا لینا ان کے دکھ درد کو اپنا دکھ سمجھنا ان کی خوشی کو اپنی خوشی تصور کرنا یہ لوگ ہیں تو سب کچھ تمہارا ہے عزت کرنا ان سب کی یہی میرے زندگی کا کل سرمایہ ہیں یہ لوگ مجھے اپنے جان سے زیادہ عزیز تھے ان کو اپنے سینے سے لگانا ہے
جی بابا جانی ضرور
میر ظفراللہ خان میں نے اپنی پوری زندگی ان کا دل سے احترام کیا ان کی راۓ کو اہمیت دی یہ سب ورثا تمیں سونپ رہا ہوں کبھی میدان سیاست میں ہارنا نہیں مجھے میرے ان لوگوں نے ہمیشہ عزت دی جو ناراض تھے پھر بھی میرے مخالفین کی بجاٸے مجھے سپورٹ کرتے رہے یہ لوگ میرے ہمیشہ ہمدرد رہے اب یہ آپ کے حوالے ہیں
جی ابا جان ایسے ہی ہو گامیں اور کچھ نہ بم سکا لیکن چھوٹا جبل ضرور بنوگا
باپ بیٹے کے آنسو نکل پڑے

اک سلطنت نہیں پوری، دنیا دے کر جاتا ہوں،
بھائی ہیں تیرے، فرید، جاوید اور شاہنواز!

کبھی مایوس تم نہ کرنا، کہیں دل نہ انکا ٹوٹنے دینا۔

عمر! یاد اتنا رکھنا یہ نگری تھی میری،
یہ گلستان تھا میرا،

اسے تم شاد باد رکھنا،
میری نصیحت یاد رکھنا!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں