41

یوریا کھاد اور اسکے ضائع ہونے اور صحیح استعمال کرنے کا طریقہ۔ تحریر:-غلام رضا خان یونیورسٹی آف سرگودھا

یوریا کھاد اور اسکے ضائع ہونے اور صحیح استعمال کرنے کا طریقہ۔

تحریر:-غلام رضا خان
یونیورسٹی آف سرگودھا

کسان بھائی یوریا کھاد کو استعمال کرنے کے لیے مختلف طریقہ کار استعمال کرتے ہیں۔ جیسے پانی میں حل کرنا، چھٹا دینا، یا دوسری کھادوں اور کیمیکل کے ساتھ ملا کر فلڈ کرنا اور سپرے کرنا شامل ہیں۔ مگر کیا آپکو معلوم ہے کہ یہ ضائع بھی ہوتی ہے۔ اور اسکے ضائع ہونے کا دارومدار بھی ہمارے استعمال کرنے کے طریقہ کار پر منحصر ہے۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق 40% سے بھی زیادہ نائیٹروجن غلط طریقہ کار کی وجہ سے ہوا میں اڑ جاتی ہے۔
مگر صحیح طریقہ اختیار کرنے سے اسکے ضائع ہونے کو کم کیا جاسکتا ہے۔ یوریا کھاد کے ضائع ہونے کی بڑی وجہ زیادہ درجہ حرارت میں پانی لگائے بغیر اسکو کھیت میں ڈالنا ہے۔ عموماً کسان اگر رات کو پانی ہے تو سہ پہر یا شام کو چھٹہ دے کر چلے جاتے ہیں یہ سب سے غلط اور سب سے زیادہ یوریا کھاد کے ضائع کرنے کا سبب بنت ہے۔
اسی طرح سب سے عام اور سب سے زیادہ استعمال ہونے والا طریقہ چھٹا ہے جس میں کھیت میں یوریا ڈال کر فوری پانی دے دیا جاتا ہے جسکی وجہ سے یوریا جب پانی میں حل ہوتی ہے تو سب سے پہلے یہ امونیا گیس میں تبدیل ہوتی ہے۔ اور یہ اس قدر غیر متوازن ہے کہ یہ فوراً پانی سے ملکر امونیم ہائیڈروآکسائیڈ بنائے گی جو فوراً سطح زمین سے اڑ کر ہوا میں چلی جائے گی۔ اور یاد رکھیں اس طرح سے یوریا کا ضائع ہونا زمین کی پی ایچ سے تعلق رکھتا ہے۔ اگر پی ایچ زیادہ ہے یعنی اساسی ہے تو امونیا کا امونیم ہائیڈروآکسائیڈ میں تبدیل ہونے کا عمل تیز ہوجائے گا اور یوں زیادہ یوریا ضائع ہوتی جائے گی۔ یاد رکھیں یہ عمل درجہ حرارت پر بھی انحصار کرتا ہے۔ کم۔درجہ حرارت میں امونیم ہائیڈروآکسائیڈ کم بنے گی اور کم ضائع ہوگی زیادہ درجہ حرارت میں الٹ ہوجائے گا یہ کام۔
سوال پھر یہ بنتا کہ ایسا کونسا طریقہ اختیار کی جائے جس سے کم یوریا ضائع ہو. تو اسکا بہترین حل یہی ہے کہ اسکو زمین کے اندر دبا کر پھر پانی دیا جائے۔ یہ سب سے بہترین عمل ہے جس سے نہایت کم۔یوریا ہوا میں ضائع ہوگی۔
دوسرا سب سے اہم طریقہ یہ ہے کہ کسان بھائی ایسی کھاد لیں جس میں نائیٹروجن کسی فاسفورس، پوٹاش سے جڑی ہو۔ جیسے کیلشیم امونیم نائیٹریٹ(گوارہ)، ڈی اے پی، نائیٹروفاس اور این پی کے شامل ہیں۔ ان کھادوں کے ساتھ نائیٹروجن امونیم اور نائیٹریٹ کی صورت میں موجود ہوتی ہے۔ اور یہ نائیٹروجن کی وہ صورت ہے جو پودے استعمال کرتے ہیں۔ اور یہ ضائع بلکل کم نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ اور ان کے استعمال سے پودے زیادہ نائیٹروجن لے کر زیادہ نشونما کرتے ہیں۔
سلفر عام یوریا سے ملا کر اگر دی جائے تو اس سے نائیٹروجن کم مقدار میں ضائع ہوگی کیونکہ سلفر زمین کا پی ایچ زیادہ نہیں ہونے دے گا اور یوں زیادہ نائیٹروجن امونیم اور نائٹریٹ وغیرہ میں تبدیل ہوگی
میرے ذاتی تجزیے کے مطابق گرمیوں میں اگر فاسفورسی کھادیں جن میں یوریا موجود ہوتی ہے انکو استعمال کرنا زیادہ مفید ہے۔ اور سردیوں میں اگر کسان چاہے تو عام یوریا بھی استعمال کرسکتا ہے کیونکہ کم گرمی میں اسکا ضائع ہونا کم ہوجاتا ہے۔

(نوٹ۔ یہ تحریر محتاط علم و مشاہدے کی بنیاد پر لکھی گئی ہے۔ اور کسان بھائی اس اہم ترین موضوع میں موجود نکات پر عمل کر کے اپنی پیداوار میں 20 سے 40% اضافہ کرسکتے ہیں۔ جبکہ خرچ پر بھی کوئی بوجھ نہیں پڑے گا)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں