103

*وہاڑی میں 10دن کے نومولود بچے کے اغواء کی منفرد واردات اور پولیس کا برق رفتار ایکشن.48گھنٹے میں ملزمان گرفتار..بچہ بحفاظت بازیاب.دوران تفتیش سنسنی خیز انکشافات

*وہاڑی میں 10دن کے نومولود بچے کے اغواء کی منفرد واردات اور پولیس کا برق رفتار ایکشن.48گھنٹے میں ملزمان گرفتار..بچہ بحفاظت بازیاب.دوران تفتیش سنسنی خیز انکشافات*

وہاڑی( )تفصیلات کے مطابق دو یوم قبل پولیس تھانہ صدر وہاڑی کو محمد اسحاق کی طرف سے درخواست موصول ہوئی کہ اس کا 10دن کا بچہ کسی نامعلوم نے گھر سے اغواء کر لیا ہے. جس پر فوری طور پر مقدمہ 544/20 بجرم 363 ت پ تھانہ صدر وہاڑی درج کر لیا گیا. ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر وہاڑی احسان اللہ چوہان کے نوٹس میں یہ بات آئی تو انہوں نے غریب خاندان کی داد رسی اور ملزمان کو ٹریس کر کے بچہ کی بحفاظت بازیابی کے لئے ایس پی انوسٹی گیشن مطیع اللہ خان کے زیر سرپرستی ایس ایچ او صدر وہاڑی طفیل گجر, اے ایس آئی عبدالغفار اور پولیس ٹیکینکل گروپ کے کانسٹیبل محمد سلیم پر مشتمل ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی. کیونکہ بچہ کی عمر صرف 10دن تھی اس لئے اس کیس کو ریڈ الرٹ میں رکھا گیا جس کی مانٹیرنگ خود ڈی پی او وہاڑی احسان اللہ چوہان کرتے رہے اور ٹیم کو مختلف قیمتی آراء بھی دیتے رہے. اس دوران مختلف جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کیا گیا جبکہ تفتیش کا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے علاقہ سے بھی جانچ پڑتال شروع کر دی گئی.آخرکار 48گھنٹوں کی مسلسل جدوجہد اور محنت کے بعد وہاڑی پولیس کو کامیابی ملتان کے علاقہ سے ملی. جہاں سے 10سالہ بچے کو بحفاظت بازیاب کر لیا گیا جبکہ سفاک ملزمان نسیم بی بی اور اس کے بھائی فیض محمد کو بھی گرفتار کر لیا گیا. ملزمان نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ وہ بھی 37ڈبلیو بی کے رہائشی ہیں اور بچہ جب پیدا ہوا تو وہ اپنی ماں کے ساتھ کچھ دن ہسپتال ہی رہا اسی دن سے ہم نے بچےکے اغواء کے پلاننگ شروع کر دی تھی جیسے ہی بشری بی بی اپنے بچے کو لے کر واپس گھر پہنچی تو اگلی رات تقریباً 2:30بجے جب وہ رفع حاجت کے لئے گھر سے باہر گئی تو ہم نے اس کا بچہ اغواء کر لیا اور فرار ہو گئے. ملزمہ نسیم بی بی نے مزید انکشاف کیا کہ وہ دائی کا کام کرتی ہے اور اسے بشری بی بی کا مجھ سے ڈیلیوری نہ کروانے کا بھی رنج تھا جس پر اس کے بچے کوٹارگٹ کرکے اغواء کیا گیا اور ملتان میں 1لاکھ 50ہزار کے عوض نفیسہ نامی خاتون کو فروخت کر دیا. پولیس نے جب ملتان میں ریڈ کر کے بچے کو بازیاب کروایا تو نفیسہ بی بی نے بتلایا کہ اس کے خاوند کی دو شادیاں ہیں دوسری بیوی کے زیادہ بچے ہیں میں نے مقابلہ میں یہ بچہ خریدا تاکہ میرے بچوں کی تعداد بھی بڑھ سکے. غریب خاندان نے پولیس کی داد رسی اور تعاون پر ڈھیروں دعائیں دیتے ہوئے کہا کہ وہاڑی پولیس نے ایک ناممکن کو ممکن بنایا جبکہ علاقے کے لوگوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے فرض شناسی کی مثال قائم کرتے ہوئے حقیقی معنوں میں عوام دوست پالیسی سے سرشار ہو کر اپنے فرائض کی ادائیگی کی اور غریب خاندان کی بروقت داد رسی کرتے ہوئے بچے کو بحفاظت بازیاب کیا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں