119

کچھ14 اگست 1947ء کے حوالے سےر

کچھ14 اگست 1947ء کے حوالے سےر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج 14 اگست اسلامی جمہوریہ پاکستان کا یوم آزادی پوری پاکستانی قوم اندرون اور بیرون ملک بڑے جوش و خروش سے منا رھی ھے ۔اور 14اگست کے حوالےسے ھر تقریب میں ایک بات 1947ء سے آج 2018ء تک ھم کہتے آرھے ھیں کہ 14اگست ھمارا یوم آزادی ھےاس دن ھمارا پیارے وطن پاکستان معرض وجود میں آیا ھم ھندو اور انگریز کی غلامی سے آزاد ھوئے یہ سب مضامین اور خطبے درست ھیں حقیقت ھیں لیکن 14 اگست پر ھمارے یہ مضامین خطبے لیکچرز اور تقاریراس حقیقت سے خالی کیوں ھوتے ھیں کہ انگریز سامراج نے 1824ء ھندستان پر قبضہ کیا اس سے قبل ھم مسلمان ھی ھندستان پر حکمران تھے اس بات پر ھم نے کبھی اپنی نئی نسل کو مسلمانوں کے زوال کی وجوہ سے آگاہ نہیں کیا
ھم یہ بات کیوں نہیں کرتے کہ 14 اگست 1947ء وہ دن ھے جس دن مسلمانوں نے اپنی کھوئی ھوئی میراث کا کچھ حصہ قائداعظم محمد علی جناح اور اس کے وفا شعار ساتھیوں کی محنت اور لگن اور کوشسوں سے حاصل کیا ھمیں تاریخ کے اوراق پلٹنے سے علم ھو گا کہ آنحضرت (ص) کا وصال 632 ء میں ھوا اور 32 سال بعد ھی 664ء میں ایک عرب جنرل محلب بر صغیر میں ملتان تک آیا اور واپس چلا گیا پھر 690ء میں بصرہ (عراق) کے گورنر حجاج بن یوسف نے اپنے ایک جرنیل عبدالرحمن کو کابل فتح کرنے کے لیے بھیجا پھر 711ء میں محمد بن قاسم نے سندھ پر حملہ کیا 30 سال تک عرب مسلمان یہاں رھئے ان کے بعد 1030ء میں سلطان محمود غزنوی آیا اور ایک سو باسٹھ سال بعد شہاب الدین غوری نے ھندستان میں 1192ء میں مسلمانوں کی سلطنت کی بنیاد رکھی اور وسیع پیمانہ پر تبلیغ اسلام ھوئی برصیغر میں اسلام پھیلا۔ مختلف مسلمان حکمران آئے جن میں دور سلاطین کے ایبک۔ تغلق۔ بلبن۔۔ خاندان قابل زکر ھیں 1526ء میں خاندان مغلیہ کی حکومت ھندستان میں قائم ھوئی جو جو 1857ء تک کسی نہ کسی حالت میں قائم رھی
اس کے بعد مسلم حکمرانی ختم ھو گئی اس کی وجہ مسلم حکمرانوں کی نا آقبت آندیشی اور عیش وعشرت تھی مسلمان بادشاھوں کی وجہ سے مسلم عوام شاہ سے گدا ھو گئی ۔ انگریز فاتح تھا مسلمان مفتوح ھندستان کی اکثریتی آبادی ھندو تھی ان کا تو آقا بدلا تھا حکمرانی تو نہیں گئی تھی مسلمانوں کی بجائے ھندو انگریز کو قابل قبول تھے لہذا مسلمانوں کو سیاسی ۔معاشی طور پر تباہ کر دیا گیا اس وقت مسلمانوں میں دو طرح کی قیادت سامنے آئی ایک وہ قیادت جو قدامت پسند تھی مسلم عوام کو جدید نظریات جدید معاشی تقاضوں سے دور رکھ کر جنگ وجدل کی جانب دکھیل کر دنیا کے جدید معاشرتی تقاضوں کو نظرانداز کر کے مسلمانوں کی کھوئی ھوئی حکمرانی کے خواب مسلم عوام کو دکھاتی تھی یہ قیادت مولوی اور پیر حضرات پر مشتمل تھی دوسری جانب وہ لوگ تھے جو حقیقت پسند تھے زمانے کے حالات اور تقاضوں سے واقف تھے یہ لوگ مسلم عوام کو زمانہ کے جدید علوم سے آگاھی دے کے زمانے کا مقابلہ کرنا چاھتے تھے جن میں سر سید احمد خان اور اس کے ساتھی سر فہرست ھیں جنہوں نے مسلمانوں کو ایک پڑھی لکھی قیادت فراھم کی جن میں شوگت علی۔ محمد علی جوھر برادران ۔ سید امیر علی ۔سر آغا خان ۔ سر محمد اقبال اور دیگر حضرات ھیں جن لوگوں نے 1906 ء مسلم عوام کی نمائندگی کے لیے ایک سیاسی جماعت مسلم لیگ بنائی 1914ء میں قائد اعظم محمد علی جناح کو اس کی قیادت دی گئی اس کے مد مقابل ھندو جماعت گانگرس 1885ء میں بن گئی تھی اب مسلم لیگ کے مد مقابل کانگرس تو تھی ھی لیکن کچھ مسلم جماعتیں جن میں جمیعت علماء ھند۔ جس کا بچہ اب جمیعت علماء اسلام ھے تحریک خاکسار۔ مجلس احرار ۔ جماعت اسلامی۔ یہ وہ سیاسی جماعتیں تھیں جو دنیا کے جدید سیاسی اور معاشی معاشرتی نظریات سے ناواقف تھیں یا کم علم وکم فہم تھیں جو مسلم لیگی قیادت کو کافر تک کہہ دیتی تھیں یہ صرف اس بات پر بضد تھیں کیونکہ انگریز نے ھم سے حکومت چھینی ھے اور ھندو ھماری رعیت تھی لہذا دوبارہ ھماری حکومت بحال ھونی چاھیئے جو کہ ناممکن تھا اور اب بھی ھے لہذا برصیغر کے مسلمانوں کو باعزت زندگی بسر کرنے کے لیے اپنی آبادی اور حثیت کے مطابق ایک خطہ زمین کی ضرورت تھی اس میں کوئی مذہبی محرک کار فرما نہیں تھا مسلمانوں کی ضرورت یہ تھی ایک خطہ زمیں مسلمانوں کو مل جائے جہاں وہ ابنے مذہبی عقائد۔اپنے سیاسی۔ معاشی۔ معاشرتی ضرویات کے مطابق ریاست قائم کرکے اپنی قانون سازی کریں اور مسلمانوں کے علاوہ اس ریاست میں بسنے والے عوام کے لیے ایک فلاھی ریاست ھو اسی لیئے 23 مارچ 1940ء کو قرارداد پاکستان منظور کی گئی اور جدوجہد تیز کی گئی قائد اعظم کو انگریز سے آزادی لینی تھی تقسیم ھند پر آمادہ کرنا تھا ھندو کانگرس کو مجبور کرنا تھا کہ وہ ھندستان کی تقسیم کو ھندو مذھب پر حملہ تصور نہ کرے اور ھندو اور انگریز دونوں کو یہ باور کروانا تھا کی ملا اور پیر اور یونینسٹ وڈیرہ صوبہ سرحد کا خان ۔ بلوچستان کا میر اور سردار مسلم عوام کا نمائندہ نھے مسلم قوم کا نمائندہ صرف اور صرف مسلم لیگ اور قائداعظم محمد علی جناح ھے قائداعظم کی قیادت میں مسلمانوں نے جانی ومالی قربانیاں دے کر یہ خطہ زمین حاصل تو کر لیا نام بھی اسلامی جمہوریہ پاکستان ھو گیا 14 اگست یوم آزادی بھی قرار پا گیا لیکن آج کی ملاوپیر کی اجارہ داری ختم نہ ھوئی ھے آج بھی وڈیرہ شاھی کا راج ھے آج بھی ملاکی تکفیری مشینں جل رھی ھے آج بھی عوام صحت وتعلیم ۔ روز گار سے محروم ھیں تھانوں مییں جبر ھے تحصیل میں لوٹ ھے کچری میں عدل وانصاف کا فقدان ھے پاکستان پر حکمرانی کرنے والے 70 سال سے وہ لوگ ھیں جو قائداعظم اور لیاقت علی خان اوران کے ساتھیوں کے بعد ملک پر قابض ھوگئے انہوں نے ملک کو لوٹکر بیرون ملک جائدادیں بنا لی ھیں عوام بے حال ھیں آج جماعت اسلامی۔ جمیعت علماء اسلام ۔ نام نہاد پختون قیادت اسفندیار ولی ۔محمود خان اچکزئی پنجاب کے شریف ۔سندھ کے زرداری جنہوں نے برسوں ملک پر حکمرانی کی ھے ھم سے مزید حکمرانی کا وقت مانگ رھے ھیں تاکہ ھماری اصلاح احوال مزید کریں عوام نے ان سے حق حکمرانی واپس لے لیا ھے خدا کرے نئی حکومت میرے وطن کو سیدھی ڈگر پر لگا دے تاکہ آئندہ 14 اگست نئے پاکستان میں نئے تقاضوں کے ساتھ منائیں ۔ خدا تعالی ملک پاکستان کو پرانے سازشی سیاستدانوں کے شر سے محفوظ رکھے آمین
مہربانی۔ واسلام

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں