101

موجودہ حکومت کی حکمت عملی سے پاکستان خطہ میں مضبوط اور بھارت کمزور ہو رہا ہے

موجودہ حکومت کی حکمت عملی سے پاکستان خطہ میں مضبوط اور بھارت کمزور ہو رہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان جغرافیائی طور پرتاایران۔ اور افغانستان سے طویل سرحدات کی صورت میں جڑا ہوا ہے ۔ بھارت پاکستان کا دشمن ملک شمار ہوتاہے افغانستان بھی پاکستان سے زیادہ بھارت کی جانب جھکاو رکھتا اور ایران اپنے تجارتی مفادات کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعات کی صورت میں کھل کر پاکستان کا ساتھ اس حد تک نہیں دیتا کہ بھارت سے اسکے تعلقات خراب ہوں چوتھا ملک ترکی ہے جو مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے ساتھ ڈٹ کے کھڑا ہےجسے ہم دوست ملک کہہ سکتے ہیں چین خطہ کا وہ ملک ہےجو پاکستان کے مفاد میں ہر عالمی فورم پر بھارت کے خلاف پاکستان سے دوستی کا حق ادا کرتا ھے جس کے بھارت کے ساتھ اپنے بھی سر حدی تناز عات ہیں۔ ایک اور طاقت ور ملک روس ہے جو عالمی معاملات میں کافی اہمیت کا حامل ملک ہے کسی دور میں روس بھارت کا بہت بڑا اتحادی تھا پاکستان کے مخالف تھا جس کی وجہ پاکستان کی سابقہ حکومتوں کے امریکی مفاد میں روس مخالف پالیسیوں کی حمائت تھی اب موجودہ حکومت نے روس سے بھی کافی حد تک تعلقات درست کر لئے ہیں ۔۔
چین نے پاکستان میں سی پیک منصوبوں کی مد میں پاکستان میں جو 65 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے اس سے علاقہ میں بہت سی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں پاکستان کی گوادر پورٹ جو چین کی مدد سے آپریٹ ہو چکی ہے جس کی خلیجی ریاستوں اور کچھ عرب مملک کو زیادہ خوشی نہ ہے دوسراامریکہ کی اس علاقہ میں بحری بالا دستی خطرہ میں محسوس ہوتی ہے اور سی پیک منصوبے کے تحت وسطی ایشیائی مملک تک چین کے تجارتی رستے ہموار ہوتے ہیں جس وجہ سے امریکہ اور بھارت کو اس کی بہت زیادہ تکلیف ہے ۔ اس لئے بھارت نےافغانستان میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کی خاطر ایران اور افغان حکومت سے اپنے تعلقات بڑھائے تاکہ ایران اور افغانستان کے رستے پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں حالات خراب کرے اور سی پیک منصوبہ کو نقصان پہنچائے اس معاملہ میں امریکہ کی بھارت کو مکمل آشیر باد حاصل ہے افغانستان کے حالات کی وجہ سے امریکہ کو پاکستان کی ضرورت ہے تاکہ وہ کسی نا کسی طریقہ سے اپنی عزت بچا کر افغانستان سے نکل جائے اس صورت میں پاکستان امریکہ کے لئے زیادہ مفید ہے کیونکہ افغانستان کی نا قابل شکست قوت طالبان ہیں جن تک پاکستان کی رسائی ہےجس وجہ سے موجودہ حکومت اور خصوصا”عمران خان کی پالیسی کی وجہ سے افغان طالبان اور امریکہ مذاکرات پر آمادہ ہوئے مذاکرات کامیاب ہوئے معائدہ ھوا اب ا فغان حکومت اور طالبان کے مابیں مذاکرات ہو رہے ہیں پاکستان اس میں بھی سہولت کار کا فریضہ ادا کر رہا ہے جلد ہی افغانستان میں امن بحال ھو گا جو پاکستان کے بھی مفاد میں ہے موجودہ افغان حکومت جس کا جھکاو بھارت کی طرف رہا ھے اگر اس کی طالبان سے صلع ھو جاتی ھے طالبان بھی افغان حکومت کا حصہ ھو نگے اس طرح بھارت پہلے کی طرح افغان سر زمیں پاکستان کے خلاف کبھی بھی استعمال نہ کر سکے گا افغانستان سے بھارتی اثرات کے خا تمہ کا کریڈٹ عمران خان کو جاتا ہے۔
اب ایران کی طرف آتے ہیں پچھلی پاکستانی حکومت کی خارجہ پالیسی تھی ہی نہیں کوئی وزیر خارجہ تک نہ تھا محض سعودی شاہوں اور خلیجی ریاستوں کے شہزادوں سے تعلقات بنانا اور استوار رکھنا شریف حکومت کی خارجہ پالیسی کی بنیاد تھی جس وجہ سے ایران سے پاکستان کے تعلقات خراب ھوئے شریف حکومت نے عرب شہزادوں اور امریکہ کے دباو میں آکر پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے جو ایران کی طرف سے مکمل ھے اس پر اپنے حصہ کا کام روک دیا اس وجہ سے ایران کا جھکاو بھارت کی طرف ھو گیا۔ سی پیک منصوبوں اور گوادر پورٹ کو نقصان دینے کے لیے بھارت نے ایران کی چاہ بہار بندرگاہ کی تعمیر و مرمت کا معائدہ کیا جس کا مقصد پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ کو نقصان پہنچانا تھا اور خشکی کے رستے افغانستان میں اپنا اثرورسوخ بڑھاناتھا۔ 2016ء میں بھارت کی مودی ایران کے صدر حسن روحانی اور افغان صدر اشرف غنی نے 400 ملین ڈالر کے ایک سہ فریقی معائدہ پر دستخط کیے تھے جو 2022ء تک مکمل ھونا تھا 4 سال گزرنے کے با وجود اس پر کوئی کام نہ ھواچاہ بہار زہدان ریلوے لائن منصوبے پر کوئی پیش رفت نہ ھو سکی اب صودتحال بدل گئی ھے ایران نے بھارت سے اپنے معائدے یکطرفہ طور پر ختم کر دیئے ھیں گذشتہ دنوں چین اور ایران کے درمیان ایک 400 ارب ڈالر کا چاہ بہار معائدہ ھوا ھے جس کے تحت آئیندہ 25 سال کے لئے ایران چین کو سستا تیل مہیا کر ے گا جس کے بدلے چین ایران کے آئل گیس اور پیٹرو کیمکل کے شعبوں کی ترقی کے لیئے ایران میں 289 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ اس معائدہ کے تحت چین ایران کے ٹرانسپورٹ اور مینو فیکچرنگ کے انفرااسٹریکچر کو اپ گریڈ کرنے کے لیئے ایران میں 120 ارب ڈالر کی سر مایہ کاری کرے گا جب کہ بارٹر نظام کے تحت ایرانی تیل کے بدلے چین ایران کو اپنی مصنوعات اور خد مات دے گا اب ایران بھارت کے بغیر اپنے چاہ بہار زاہدان ریلوے لائن منصوبے کو مکمل کرے گا اب امریکی پالیسی ھے کہ ایران کو معاشی طور پر تباہ کر دے امریکہ دباو کے تحت بھارت نے ایرا نی تیل کی خریداری بند کر دی ہے جس سے ایران کو معاشی نقصان ھے لیکن چین ایران معائدہ سے ایران کو فائدہ ھوا ھے اس طرح ایران بھارتی اثرات سے نکل چکا ھے جو پاکستان کے مفاد میں ھے۔
اطلاعات کے مطابق مستقبل میں چاہ بہار بندر گاہ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ کا حصہ بن جائے گی اور سی پیک پلس جس میں چین ۔ پاکستان۔ روس۔ ترکی۔ ایران۔ شامل ھیں سی پیک کو وسط ایشیا اور یورپ سے ملا دے گا جبکہ ھائی اسپیڈ ٹرین کے ذریعے چین کو وسط ایشیا اور ترکی کے ذریعے یورپ تک رسائی حاصل ھو جائے گی۔ اس طرح چین ۔ پاکستان ۔ایران ۔ ترکی۔ روس۔ خطے میں بھارت اور امریکہ کے مقابلہ میں ایک طاقت ور بلاک بن کر ابھریں گے ان تمام تبدیلوں کا محور و مرکز چین پاکستان سی پیک منصوبہ ھے یہ جتنی جلد مکمل ھو گا اتنا ھی پاکستان کے لئے مفید ھو گا بھارت اور امریکہ کے لئے پریشانی کا بحث۔ دیکھنے کی بات یہ ھے افغانستان سے امریکہ اور بھارت فارغ۔ بھارت ایران سے فارغ چین کی مدد سے پاکستان علاقہ کی مضبوط معاشی قوت بن کر ابھرے گا جس کا سارا کریڈٹ موجودہ حکومت عمران کی خارجہ پالیسی کو جاتا ھے اب ایران سے بھی ھمارے بہت اچھے تعلقات ھونے کی امید ھے کیونکہ حا لیہ دنوں میں عمران خان نے عرب شہزادوں کو بھی معمولی سی پھکی دی ھے تاکہ وہ پاکستان کو اپنا مزارعہ نہ سمجھیں حالات تو ٹھیک ھی رہیں گے اور عالم اسلام میں پاکستان کا امیج بلند ھو گا اگر عمران کو کام کرنے کا پورا وقت مل گیا جو انشاءاللہ ملے گا پاکستان دنیا کی عظیم قوت بن کر ابھرے گا پھر کشمیر۔ فلسطین کے علاوہ مسلم دنیا کے جملہ مسائل کا حل نکلے گا ۔ شکریہ
سلطان نیوز۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں