127

پاکستان کی موجودہ بر بادی کے تین بڑے کھلاڑی۔ 1۔فوجی حکومتیں 2۔ پیپلز پارٹی 3۔مسلم لیگ ن گلہ عمران خان (پی۔ ٹی۔ آئی۔) پر کیوں ؟

پاکستان کی موجودہ بر بادی کے تین بڑے کھلاڑی۔
1۔فوجی حکومتیں
2۔ پیپلز پارٹی
3۔مسلم لیگ ن
گلہ عمران خان (پی۔ ٹی۔ آئی۔) پر کیوں ؟ ؟؟؟؟؟

اگرملک سنوارنا ہے عمران خان کو بھی 5 سال کا وقت دینا پڑے گا۔
__________________
محترم دوستو!
پاکستان کو وجود میں آئے ہوئے تقریبا 73 سال ہو گئے ہیں یعنی پاکستان کی عمر 73 سال ہونے کو ہیں ابتدائی دس سالوں قائداعظم اور لیاقت علیخان کے بعد اس وقت کے سیاست دانوں اور بیورو کریٹس کی محلاتی سازشیوں نے ملک کو نقصان پہنچایا پھر ایوب خان کا راج آیا ان ادوار میں کئی تاریخی غلطیاں ہوئیں سب سے سنگین غلطیاں کشمیر کے بارے میں ہوئیں پاکستان نے 1947ء میں کشمیر کو حاصل کرنے کا موقع ضائع کیا ۔ پھر 1962ء چین انڈیا جنگ میں بھی ضائع کیا جب کشمیر پر حملہ کرنے کی بجائے ایوب خان نے امریکہ کے کہنے پر انڈیا سے دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔ اور پھر 1965ء کی جنگ میں بھی موقع ضائع کیا جب جنرل اختر ملک کو اکھنور کی جانب پیش قدمی سے روک دیا گیا۔ ایوبی دور میں جو مزید غلطیاں ہوئیں 1962ء اور 1965ء کے دوران محترمہ فاطمہ جناح سے دھاندلی کے ذریعے الیکشن جیتنا محترمہ کو غدار اور وطن دشمن کے غیر مہذب القابات سے پکارنا پھر فوجی حکمران یحیی خان کا دور پاکستان کی بربادی کا سیاہ ترین دور ہے جس نے الیکشن میں اکثریتی پارٹی کو اقتدار نہ دیاملک توڑ دیا پھر جب یورپ اور امریکا کو سویٹ یونین روس کے خلاف پاکستان کی ضرورت پڑی تو جنرل ضیاالحق صاحب کے دور میں پاکستان کو فرنٹ لائن پر روس کے سامنے کھڑا کر دیا گیا فوجی حکمران نےاس موقع سے کوئی فائدہ نہ اٹھایامحض اپنے آمرانہ دور کو طول دینے اور اپنا اقتدار بچانے کے لئے اس موقع کو استعمال کیا ملک کو منشیات اور کلاشنکوف کلچر فرقہ داریت اور مذہبی دہشت گردی کے تحفوں سے نوازا۔ پھر جب امریکہ کو اسامہ بن لادن اور افغان طالبان کے خلاف دہشت گردی کے نام پر لڑی جانے والی جنگ میں پاکستان کی ضرورت پڑی تو جنرل پرویز مشرف کے دور آمریت میں پاکستان کو فرنٹ رول اتحادی کے طور پر استعمال کیا گیااور ملک کو تباہی کے دھانے پر لا کر کھڑا کر دیا گیا ملک کو کوئی فائدہ نہ ہوا ۔
اب سوال یہ ہے جس پر ہمارے اداروں اور میڈیا دانشوروں کو سوچنا ہو گا کہ پچھلے 50 برسوں میں ہمارے حکمرانوں نے جو غلطیاں کی ہیں ہمارے اداروں اور دانشوروں نے ملک میں جو غلط سوچیں پیدا کرکے گند پھیلایا ہے کیا وہ اب دہرا تو نہیں رہے۔ ان پچاس برسوں میں 22 سال فوجی حکومتیں رہیں 15 سال پیپلز پا رٹی بر سر اقتدار رہی۔ مسلم لیگ 10 سال بلا شرکت غیرے اقتدار میں رہی اور پی۔ ٹی۔ آئی کی حکومت صرف 2 سال ہے اور 1 سال نگران حکومتیں رہی ہیں کیا پچھلے پچاس سال میں ملک کی کمزور معیشت۔ کمزور خارجہ پالیسی۔ اورپاکستان کی اندرونی امن و امان کی خراب صورتحال۔ بیرونی قرضوں کی انبار اور اندرونی قرضونکی بو چھا ڑ سیاسی معاملات میں اشٹبلشمنٹ کی مداخلت اداروں کی بد حالی اوپر سے لے کر نچلی سطح تک کرپٹ رشوت خور سر کاری ملازمین کی فوج ظفر موج کی بھرتی ایم این اے۔ ایم پی اے کی زیر نگرانی ہونے والے ترقیاتی کاموں میں کمیشن کا فروغ۔ مختلف مضبوط مافیاز جن میں پرائیویٹ سکول و کالج مافیا پرائیویٹ میڈیکل کا لج مافیا۔ پرائیویٹ ہسپتال مافیا۔ مزدور۔ کسان کی محنت کو لوٹ کر کھانے والے تاجر مافیاز۔ ملز مافیاز۔ کی ذمہ داری 2 سالہ پی ٹی آئی کی حکومت پر ڈالی جا سکتی ہے ۔ کیا یہ انصاف ہو گا۔ جبکہ فوجی حکمرانی کا تناسب 44 فیصد پیپلز پارٹی کا تناسب حکمرانی 30 فیصد ن لیگ کا حکمرانی کا تناسب 20 فیصد ہے ۔
کیا اب ہم یہ کہنے میں حق بجانب نہیں کہ ملک کی بربادی کے اصل ذمہ دار ضیاالحق۔ پرویز مشرف۔ بینظیر بھٹو۔ نواز شریف اور زرداری ہیں ۔ 48 سال کی اس بربادی کو درست کرنا پی ٹی آئی کے 2 سال میں ایک معجزہ تو ہو سکتا ہے لیکن حقیقت میں یہ ایک نا ممکن چینلج ہے ۔
اس لئے عرض ہے پاکستان کی موجودہ بربادی کے 3 بڑے کھلاڑیوں کو اب عمران خان کو بھی 5 سال دینے ہونگے۔ اگر عمران خان 5 سال میں کوئی کار کردگی نہ دیکھا سکا تو عوام خود اس کا حساب الیکشن میں کر لیں گے اور اب غیر جمہوری قوتوں کا حکومتی معاملات میں اتنا ہی دخل ہونا چاہئے جتنا علاقہ کے ممالک بھارت ۔ ایران اور بنگلہ دیش میں ہے۔
واضع رہے احتساب بلا تفریق ہی ایک واحد راستہ ہے جو ملک کی تقدیر بدل سکتا ہے جو لوگ پچھلے 50 سال سے اقتدار میں رہے ہیں ان کا احتساب ہونا چاہیے اسپر اپوزیشن پارٹیوں کو چیخ و پکار بند کرنی چاہئے۔ بلا تفریق احتساب ہی ہماری کا میابی کا زینہ بن سکتا ہے۔
دوستو! جب ہم 72 برسوں میں کچھ نہ سیکھ سکے تو اب ہم عمران خان سے چاہتے ہیں کہ وہ چند سالوں میں اس قوم کے 72 سالوں کا بگاڑ درست کر دے با وجود اس کے سابق حکمران اس کی رہ میں اپنے گماشتوں کے ذریعے جو مختلف اداروں پے قابض بیٹھے ہیں عمران خان کی رہ میں روکاوٹیں بھی کھڑی کرتے رہیں۔
ہاں عمران خان نے یہ چیلنج بھی قبول کر لیا ھے لیکن قوم اور میڈیا کو بھی اب صبر کا مظاہرہ کرنا ہو گا ۔ اس ملک کے نظام میں تبدیلی لانی ہو گی۔ طاقت ور کو عوام کے تابع لانا ہو گا سرکاری آفیسرز کو پبلک سرونٹ بننا ہو گا باد شاہوں کا رویہ تر ک کرنا ہو گا۔ اپنی نئی نسل کو اپنے کرتوت اور اعمال بتانے ہونگے۔ حقا ئق کو تسلیم کرنا ہو گا۔ آئیے اپنی نئی نسل کو حقائق بتائیں تاکہ وہ ہماری غلطیوں کو نہ دہرائیں ۔
واسلام۔ شکریہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں