161

چوہدری محمد مختار جٹ ایڈووکیٹ کا فکر انگیز مضمون پڑھیں پیام حق

چوہدری محمد مختار جٹ ایڈووکیٹ کا فکر انگیز مضمون پڑھیں

پیام حق

منجانب سلطان نیوز آن لائن
دوستو! انسانی معاشروں کے مسائل فرشتوں اور نیک لوگوں کے نہیں ۔انسانی معاشرے اپنی بقاء کی جنگ لڑتے گرتے پڑتے جنگ و جدل کرتے غلط کاریوں اور آز مائشوں سے گزرتے با لا آخر صیح رستوں کی تلاش میں چلتے رہتے ہیں۔ وجود کائنات سے لے کر آج تک انسانی معاشروں میں حق و با طل کی معرکہ آرائی جاری ھے اور اس بات کو صداقت عامہ کا درجہ حا صل ہے کہ خدا کا کوئی بھی ایک مذہب نہیں۔اگر ایسا ہوتاتو دنیا بھر میں کسی انسان کی ہمت نہ ہوتی کی وہ کسی دوسرے مذہب کا پر چار کرتا۔ اس لیے آج خدا کے نام پر ہزاروں نظریات ہر سو پھیلے ہوئے ہیں ۔ لیکن کسی ایک پر بھی اتحاد وآتفاق ممکن نہیں۔ جب وہ خود یکتا ہے تو اس کا پیغام بھی یکتا ہونا چاہئے۔ در اصل پہ پادری۔ ملا۔ مذہبی جنونی۔ ہمیشہ انسانیت کی خوشیوں کے قاتل رہئے ہیں ۔ انہیں نہ کبھی خدا کا خوف رہا نہ بندگان خدا کا ۔ مذہبی آجارہ دار کو خدا اس وقت یاد آتا ہے جب خود اس کی نفسانی خواہشات پوری ہوتی نظر نہ آئیں ۔ پھر وہ کبھی آنسو۔ کبھی سجدے کبھی ہاتھ اٹھا کر خالق کو پکارتا ہے۔پچاس لاکھ کی ویگو گاڑی سے اتر کر اگر کوئی مذہبی رہنما یہ فر مائے کی اسلام ہمیں سادگی کا درس دیتا ہے تو آیک عام آدمی اس کا کیا اثر قبول کرے گا۔ خودی سے عاری بے عمل بندے کی دعائیں کب اثر رکھتیں ہیں۔ در اصل ھمارا باطن روشن ہے نہ نگاہ بلند ۔ شطرنج میں اگر وزیر اور زندگی میں ضمیر مر جائے تو سمجھو کھیل ختم۔ ضمیر کے سوداگروں ۔ جاہلوں کی شعلہ بیانی اور دانشمندوں کی خا موشی سے کبھی کبھی انسان ہونے پر شرم محسوس ہوتی ہے گویا دنیا میں ہونے والی اب تک کی پیشتر جنگیں فتنے فساد اور قتل و غارت انہیں کے نظریات کا نتیجہ ہیں ۔ آزادی مذہب کی روح کو کبھی انہوں نے تسلیم ہی نہیں کیا۔ نہ اسے عملی طور پر معاشرہ میں رائج ہونے دیا ان کی سوچوں کا یہ نتیجہ ہے کہ آج ہر معاشرہ میں نہ کہیں امن ہے نہ خدائی احکامات کا احیاء ۔ گویا دنیا میں جتنا کوئی بڑا غدار، کرپٹ، عیاش اور شازشی ہے اتنا ہی قابل عزت ہے۔ ہمارے قدامت پرست مذہبی آجارہ دار اب تک بضد ہیں کہ زمین ہی تمام کائنات کا مرکز ہے اور انسانی زندگی کا دائرہ نہایت ہی محدود ہے جو کچھ کرنا ہے جہاں تک کرنا ہے اسی جگہ کرنا ہے جو بالکل لغو اور جھوٹ اور بے بنیاد ہے اسی لیئے ہمارے عقل و خرد اور فکر وآگاہی کے اداروں نے کوئی خاطر خواہ ترقی نہیں کی نتیجتا”عوام و خواص میں سے کسی کو کوئی غرض نہیں کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے اور کیوں ہو رہا ہے۔ جس معاشرے میں انسا نی سوچوں پر پہرے اور اسکے افراد زندگی کے حقائق سے چشم پوشی کریں رنگ برنگ فرقےاور مسالک ہوں ہر کسی کا اپنا خدا ہو تو ایسی کیفیت میں ان میں خالق حقیقی کے ان گنت عالمین کے عملا” وجود کا کیونکر شعور پیدا ہو گا۔ ایسے معاشرے کتنے پائیدار اور خدا شناس ہوں گے ان کے افراد حق و باطل میں امتیاز کرنے اور وقت کی رفتار کا مزاج سمجھنے کا کتنا ادراک رکھتے ہوں گے۔ کہ ستاروں کے آگے جہاں اور بھی ہیں ۔

اس حوالے سے پاکستان میں جہاں سیاسی و مذہبی قیادت کی پہچان جھوٹ ہو۔ جہاں سیاسی یتیموں و نا با لغوں اور مذہبی جاہلوں کی پو جا پاٹ ہو۔ جہاں بندوں کو نہں ان کے سایوں کو پسند کیا جائے اور انہیں سے خالی جگہ پر کی جائے جہاں جدید سانئس کے واقعات اور ایجادات اور ترقی کی دیگر شکلوں کو فرسودہ روایات سے جوڑا جائے ۔ تین کروڑ سے ذائد بچے زیور تعلیم سے محروم کروڑوں بیماری کی وجہ سے موت کےآغوش میں ہوں ۔ عقیدوں کی سلامتی و فروغ کے لئے اقدام کئے جائیں ۔ جہاں ملک دشمن آشرافیہ اور بد معاشیہ صاحب عزت ہو۔ ملکی حکمران سامراجی طاقتوں کے گماشتے ہوں اور ملک کی افواج کو دنیا بھر میں رسوا کیا جائے۔ جہاں حیوانیت فروغ پائے اور انسانیت شرمائے۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کیا پاکستان کا فر تخلیق کرنے کے لئے بنایا گیا تھا؟ یہ ملک کب خود مختار اور آزاد ہو گا؟ قانوں کی حکمرا نی اور انسانیت کی سر بلندی کا خواب کب شرمندہ تعبیر ہو گا؟
دوستو! انسان دوست راہنماوں نے عوام کے تعاون سے جہنم جیسے ملک جنت بنا لئے ہیں اور ہم نے جنت جیسا ملک جہنم بنا دیا ہے
غیر مسلم اپنی ذات کے عرفان کے لئے ہمہ وقت بے چیں رہئے۔ خدائی راز پانے کے لیئے شب وروز انتھک محنت کرے اور خالق کی کائنائتوں کو تلاش کرنے کے لئے حا لت جنو ں میں رہے ۔ اور ہم دین حق کے وارث ماضی پرستی۔ روایت پسندی اور فر عو نیت سے چھٹکارہ پائیں نہ زمینی حدود و ھنگاموں سے باہر نکلیں آج کی جدید سائنسی دور میں زمیں کے اندر دوڑتی ھوئی زندگی تلاش نہ کریں اس سے بڑی شرمندگی اور بے خودی کیا ہو گی۔ آج ضرورت ہے آنکھیں کھلی رکھ کر اذہان کو بیدار کر کے ذاتی مشاہدات کو بروئے کار لا کر ان سفاک ظالم شکم پرور نفس پرست انسان دشمن درندوں کا ہر فورم پر مقابلہ کیا جائے ان کی اوقات کو بے نقاب کیا جائے ان کے اسلامی نعروں اور فتووں سے سادہ لوح عوام کو بچایا جائے کیونکہ یہی کمزور طبقہ ان کے جادو کا شکار ہوتا ہے سرمایہ دار اور طاقت ور لوگ تو ملا کی شریعت بھی خرید لیتے ہیں
شکریہ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں