155

چوہدری محمد مختارجٹ ایڈووکیٹ کا تلخ سچائیوں پر مبنی فکر انگیز مضمون پڑھیں منجانب سلطان نیوز آن لائن۔

چوہدری محمد مختارجٹ ایڈووکیٹ کا تلخ سچائیوں پر مبنی فکر انگیز مضمون پڑھیں
منجانب سلطان نیوز
آن لائن۔
محترم دوستو! کوئی بھی فکر انگیز مضمون در حقیقت ہماری توجہ ان تلخ حقائق کی طرف مبذول کرواتا ہے کہ دنیا کی چند قوموں کے لوگ علم و دانش۔ سائنس و ٹیکنالوجی۔ سیاسیات۔ معاشیات۔ نفسیات۔ ادب اور فلسفے کی معراج پر ہیں ۔ جبکہ روئے زمین کے اکثر خطوں بالعموم اور پاکستان بالخصوص میں آج بھی گنڈا تعویز۔ توہم پرستی۔ تقلید پرستی۔ ظاہر پرستی۔ شہرت پرستی۔ کلچر پرستی۔ فرقہ پرستی۔ علماءو پیر پرستی۔ ماضی پرستی۔شخصیت پرستی ۔کا طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔
ان عوامل کی وجہ سے ہمارے ہاں دہشت گردی۔ دولت گردی ۔ لوٹا گردی عام ہےاسے کوئی برائی نہیں سمجھا جاتا۔ استحصالی و طبقاتی نظام۔ فرسودہ روائتوں ۔ بوسیدہ طور طریقوں۔ کو دوبارہ عروج ملنے کا خواب دیکھنے اور آرزو کرنے پر تو کوئی قانونی۔ سماجی۔ اخلاقی۔ پابندی نہیں لیکن حقیقت بالکل اس کے بر عکس ہے۔ خلائی جہاز۔ جنگی جہاز۔ بحری بیڑے۔ میزائل تخلیق نو کی پیداور اور جدید ٹیکنالوجی سے چلتے ہیں نہ کہ پیرو مرشد کی دعاسے ۔نہ کسی کرنٹ شاہ کی کرامت سے نہ کسی با بے کے دم درود سے نہ کس بطخوں والی سرکار کے جادو ٹونے سے۔
جس قوم کا آنے والا کل بھی ان ہی خرافات کی عملی تصویر ہو کیا اسے زندہ قوم کہا جا سکتا ہے۔ جہالت کی تاریک راہوں میں کیا کوئی غلام ذہنیت۔ شکم پرور۔ اور سرطان زدہ شخص رسم شبیری ادا کر سکتا ہے۔ جس قوم کی فکر ھزار پہروں میں بند زنگ آلود اور اس کا ہر فرد دستار بند ہو اس سے یہ توقع رکھنا کہ وہ سر پر کفن باندھ کر فکر نو۔ تعمیر نو۔ اور پرواز بلند کے لئے میدان میں نکلے یہ ایک احمق کا خواب تو ہو سکتا ہے دانشور کی سوچ نہیں ۔
بلا شبہ اس اکیسویں صدی میں بھی مسلم اقوام بالعموم اور پاکستان میں بالخصوص روشن خیالی ایک گالی اور علوم و فنون سے آگاہی محض خیالی ہے ۔ جمود کا شکار اور فکری انتشار سے بھرے یہ مجمے ابھی تک نفس کے پجاری۔ مذہبی دیوتاوں اور فکر ودانش سے عاری ۔ جمہوری دانشوروں ۔ انسانی اقدار کے دشمن سیاسی رہنمائوں کے پیچھے ہاتھ باندھے مری ہوئی مخلوق کے مسائل و قصائد پر دلائل گھڑتے نہ شرمندہ ہوتے ھیں نہ افسردہ۔
یہ آج بھی ماضی کے امراء اور بدمعاش حکمران طبقہ کی تاریخ اور روائیتوں کے زیر اثر عقائد و نظریات کے تابع ز ندگی گزارنے پر نازاں ہیں آج کے جمہوری دانشور سمندر سے نہیں گوبر سے موتی تلاش کرنے کے عادی ہیں ۔ انہیں نہ اپنے قیمتی وقت کی اہمیت کا احساس ہے ۔ نہ زمانے میں ہونے والی ترقی کا اور نہ وقوع پذیر ہونے والے حالات و واقعات کا علم انہیں اپنے وجود کا علم ہے نہ سفر زندگی کا ادراک۔
سنے گا کون اقبال ان کو انجمن ہی بدل گئی ہے۔
نئے زمانے میں آپ ہم کو پرانی باتیں سنا رہے ہیں۔

دوستو! آج کی جدید دنیا میں ہمارے سیاسی جمہوری دانشوروں کے فہم و ادراک کی مثا ل کنویں کے مینڈک کی ماند ہے۔ انہیں نہیں معلوم کائینات کتنی وسیع ہے صدیوں سے اب تک کی تحقیق انسانی صرف 10 فیصد کہکشائیں دریافت کر سکی ہے جو دو کھرب کے لگ پھگ ہیں باقی 90 فیصد انسانی رسائی میں نہیں ۔
سنو! اس کرہ ارض پر وہی قوم ترقی و کامرانی سے سرفراز ہو ئی جس نے فطرت کے اصولوں کا اتباع کر لیا۔ فطرت سب کے لئے ہے سورج۔ چاند۔ ستارے۔ بارش۔ ہوا۔ بجلی۔ لہریں ۔ الیکٹران۔ غرضیکہ ہر ظاہر و پوشیدہ کائناتی قوتیں اس کے کام آئی ہیں جو ان راہوں کا مسافر ھے۔ لیکن ستم کی بات یہ ھے کہ زمینی حقائق اور مستقبل کی انسانی زندگی سے نا آشنا مذکورہ بالا حضرات کی نظر میں ہنوز جدید تحقیق و فکر کی دنیا ایک شیطا نی کھیل ھے۔
خالق کائنات نے آدمی کا عجب مزاج بنا یا ہے یہ کسی بات کے غلط ثابت ہو نے پر معافی نہیں مانگتا بلکہ رابطہ توڑ لیتا ہے۔ اس کے نزدیک جمود۔ بے خودی۔ خوف روایتوں کا دلدل زندگی ہے۔ اور عصر حاضر کے تقاضے ضرورتیں اورموت و بے غیرتی ہے اگر ہم مسلمان خصوصا”پاکستانی اس فریب سے باہر نہیں نکلیں گے فطرت ھمیں بری طرح رد کر دے گی۔ بلاشبہ سائنسی ایجادات و اختراعات انسانیت کی بلا تفریق خد مت کر ے والے خالق کے پسندیدہ بندے ہیں اور وھی نائب خدا ھیں کائنات کا اخلاص ہی ان کا دین ہے ۔مذہب۔ ایمان ۔عقیدہ۔ مسلک و فرقہ ہے۔ کائنات میں موجود تمام وسائل بلا تفریق سب انسا نو ں کے لئے یکساں ہیں لیکن اس حوالے سے ہماری تاریخ بڑی بد قسمت ہے آزادی سے لے کر اب تک ہمارے نا شائستہ سیاسی لیڈروں کی نادانیوں کی وجہ سے ملک میں متعد د بار حکومتیں کھلونوں کی طرح ٹوٹیں ۔ اللہ کے نام پر قائم ھونےوالی مملکت کو ہر دور میں نصیب ھونے والی سیاسی قیادت نے اس کی نظریاتی وحدت کو نقصان پہنچایا ۔ ہمارے سیاست دانوں کو آج تک نہ جدید عصری تقاضوں کا ادراک ھوا نہ ہی کبھی فرسودہ خیالات و روایات سے با ہر نکلنے کی کو شش کی یہی ہمارے لئے بہت بڑا المیہ ہے
شکریہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں