94

انسانی پلازما کیا ہوتا ہے اور اس کے عطیہ کرنے پر انسانی جسم پر کیا اثر پڑتا ہے…..؟ ہمارا خون دو طرح کے اجزاء پر مشتمل ہے۔ بلڈ سیلز بلڈ پلازما اگر کبھی جلد پر زخم یا خراش

انسانی پلازما کیا ہوتا ہے اور اس کے عطیہ کرنے پر انسانی جسم پر کیا اثر پڑتا ہے…..؟
ہمارا خون دو طرح کے اجزاء پر مشتمل ہے۔
بلڈ سیلز
بلڈ پلازما
اگر کبھی جلد پر زخم یا خراش آئے تو آپ نے دیکھا ہوگا پہلے پانی سا باہر آتا ہے سرخ خون بعد میں آتا ہے، یہی پلازما ہے-

جب ہمارے خون میں کوئی بھی بیرونی جرم داخل ہوتا ہے تو خون کے پلازمہ میں اس کے خلاف کارروائی کے لئے اینٹی باڈیز بننا شروع ہو جاتی ہیں…
اگر یہ اس پہ قابو پالیں تو ہم بیماری کا شکار نہیں ہوتے اگر جرمز غالب آجائیں تو ہم بیمار ہوسکتے ہیں
اگر ایسا انسان جس میں وائرس داخل ہو چکا وہ اگرچہ بیماری کا شکار نہ بھی ہو وہ کیریئر کا کام کرتا ہے- یعنی وہ ان جرمز کو دوسرے میں منتقل کر سکتا ہے جس سے دوسرا انسان اگر کم قوتِ مدافعت کا ہوا تو بیمار پڑ سکتا ہے-
آپ نے سنا ہوگا کہ جو کیریئر ہو یا جو ایک بار وائرل بیماری سے تندرست ہو چکا ہو وہ دوبارہ اس بیماری کا شکار نہیں ہوتا، اسکی وجہ وہی اینٹی باڈیز ہیں جو پہلے وائرل اٹیک میں اس ک خون میں بن چکی تھیں
جو طریقہ بتایا گیا ہے اس میں یہ کیا جاتا ہے کہ وہ بندہ جو بیماری سے تندرست ہوچکا اس کے خون سے پلازما الگ کیا جاتا ہے پلازما اینٹی باڈیز خون کے پلازمہ میں ہوتی ہیں)
یہ پلازما جب مریض میں انجیکٹ کیا جائے گا تو اس کے اندر بیماری کے خلاف مدافعت بڑھ جائے گی اور وہ ان شاءاللہ جلدی تندرست ہو جائے گا-
اب اسی طریقہ کار کے مطابق کورونا وبا سے صحت مند ہونے والوں کا پلازما لے کر نئے مریض میں بذریعہ خون لگا کر علاج شروع کرنے کا طریقہ کار وضع کیا جا رہا اور اس میں کامیابی ملے گی اور کچھ حد تک ملی بھی ھے
اب آتے ہیں سوال کی طرف….
پلازمہ نہیں دیا جاتا خون دیا جاتا ہے، اس سے پلازما الگ کرنا لیبارٹری کا کام ہے۔۔۔ باقی آپ دیکھ لیجيے کہ خون دینے سے کیا ہوتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں