83

ایف آئی آر درج کرواتے ھوئے مندرجہ ذیل باتوں کا خاص خیال رکھیں تاریخ وقوعہ وقت ( وقت کو ہمیشہ تقریبا لکھنا چاہیئے مثلا صبح تقریبا 8 بجے یا شام تقریبا 6 بجے ) الزام علیہ یا الزام علیہان کی تعداد نوٹ: اصل ملزم کے علاوہ کسی دوسرے شخص کو بلاوجہ بطور ملزم نہ لکھیں کیونکہ اکثر دیکھنے میں آیا ہے اگر FIR میں اصل ملزم

ایف آئی آر درج کرواتے ھوئے مندرجہ ذیل باتوں کا خاص خیال رکھیں
تاریخ وقوعہ
وقت ( وقت کو ہمیشہ تقریبا لکھنا چاہیئے مثلا صبح تقریبا 8 بجے یا شام تقریبا 6 بجے )

الزام علیہ یا الزام علیہان کی تعداد

نوٹ: اصل ملزم کے علاوہ کسی دوسرے شخص کو بلاوجہ بطور ملزم نہ لکھیں کیونکہ اکثر دیکھنے میں آیا ہے اگر FIR میں اصل ملزم کے ساتھ کسی دوسرے شخص کو بلاوجہ نامزد کیا جائے تو پھر ٹرائل میں اصل ملزم بھی اس تضاد کی وجہ سے عدالت میں سزا سے بچ جاتا ہے

اگر ملزم یا ملزمان نامعلوم ہیں تو ان کا حلیہ لکھیں اور ساتھ یہ لکھیں کہ سامنے آنے پر انھیں پہنچانا جاسکتا ھے

الزام علیہ کے پاس ہتھیار

اگر الزام علیہ 1 سے زیادہ ہیں تو ان تمام کے پاس ہتھیاروں کی اقسام

وقوعہ کا ذکر اور وقوعہ میں ملزمان کا عملی کردار مثلا کس نے لوھے کا راڈ مارا یا کس نے پتھر مارا وغیرہ

اگر مدعی نے کوئی مال اس وقوعہ میں کھویا ھے تو اس کی مالیت

گواھوں کے نام ولدیت سکنہ

اگر گواھوں کی تعداد زیادہ ھو تو کوشش کریں کہ جو ضروری گواہ ہیں صرف ان کا نام لکھیں کیونکہ گواھوں کی زیادہ تعداد بعد میں ٹرائل کے وقت Cross Examination کے وقت کچھ مسائل درپیش آتے ہیں اس لئے صرف ضروری گواھوں کا نام شامل کریں

وقوعہ میں جرم کی نوعیت

وجہ عناد

اگر ایف آئی آر کی درخواست دینے میں کچھ دیر ھوئی ھے تو اس دیر کی وجہ
میڈیکل رپورٹ
الزام علیہ کے خلاف FIR درج کرنے کی استدعا
درخواست دہندہ کا نام ولدیت قوم سکنہ وغیرہ
درخواست دہندہ کے دستخط یا نشان انگوٹھا اور اس کے نیچے تاریخ اور کوشش کریں کہ درخواست دینے کا وقت بھی لکھ دیں تو بہتر ھوگا

شناختی کارڈ کی کاپی اور موبائل نمبر

ایک بات یاد رکھیں کہ ایف آئی آر مقدمہ کی بنیاد ہوتی ہے ایک مظبوط ایف آئی آر ملزمان کا سزا کرسکتی ہے اور ایک کمزور ایف آئی آر ملزمان کو باعزت بری بھی کرسکتی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں