242

گڑھ مہاراجہ کی اہم شخصیات کے بارے جو سلسلہ تحریر شروع کیا گیا ہے آج ذکر ہو گا مولانا انور علی صاحب کا۔

گڑھ مہاراجہ کی اہم شخصیات کے بارے جو سلسلہ تحریر شروع کیا گیا ہے آج ذکر ہو گا مولانا انور علی صاحب کا۔………… . . .
مولانا صاحب کا خاندان 1947ء میں ہجرت کر کے پاکستان آیا اور گڑھ مہاراجہ کی بستی بہمناں والی جو بعد میں بستی حسین آباد کے نام سے معروف ہوگئی میں آباد ہو گئے ہند ستان میں ضلع جا لندھر سے ان لوگوں کا تعلق تھا اس لئیے یہ لوگ جالندھری راجپوت کے نام سے بھی پہچانے جاتے ہیں جالندھری راجپوت بنیادی طور پر زراعت پیشہ قبیلہ ہے پاکستان میں آنے کے بعد اس قبیلہ نے کا شتکاری پرھی اکتفا کیا مولانا صاحب کے والد اقبال زوار حسیں انتہاہی محنتی قسم کے شخص تھے سفید پوش اور روائتی قسم کے انسان تھے جالندھر سے آئے ہوئے ان راجپوتوں میں ذیادہ تر گھرانے اہلسنت والجماعت ہیں چند گھرا نے شیعہ فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں جو مولانا انور علی صاحب کا خاندان ھے شیعہ ہونے کے ناطے سے مولانا صاحب کے والد محترم نے ہمیشہ اپنی انفرادیت قائم رکھی بستی میں اپنا علیحدہ امام کوٹ بنایا جبکہ نزدیک ھی بستی نوازش والی میں امام بارگاہ خان نوازش علیخان جو کہ محترم عون عباس خان صاحب کے دادا تھے کے نام سے موجود تھی اب بھی ھے اور دوسری جانب نزدیک ہی بستی منصور ڈب میں امام بارگاہ موجود تھی اور اب بھی ھے لیکن ان جالندھری راجپوتوں نے ہندوستان سےمہاجر ہو کر آنے کے باوجود اپنی غریبی حلیمی کے تحت اپنی مذہبی خودداری کو بھی قائم رکھا ۔مولانا صاحب کے والد جو کہ ایک مذہبی ذہن کے آدمی تھے جس وجہ سے خان نوازش علیخان سیال کے نزدیک اسے کافی پزیرائی تھی اپنے خاندان میں کافی موثر تھے ان جالندھری راجپوتوں کی مسجد تقریبا 50 سال تک شیعہ اور اہلسنت کی مشترکہ رہی دونوں فرقے اپنے اپنے اوقات میں آذان بھی دیتے تھے اور با جماعت اپنی اپنی نماز بھی پڑھتے تھے اس بستی میں نہ کوئی تعصب تھا نہ کوئی فرقہ واریت تھی متعد بار خان صاحبان کے گروپ سے مولانا صاحب کے قبیلہ کو شرف ممبری سے نوازا گیا مولانا صاحب کے والد محترم بھی کونسلر بنتے رھے اب ان کے بھائی ارشاد حسین کونسلر تھے مولانا صاحب کے خاندان کو شیعہ ہونےکے ناطے سے 1947ء ہی سے سیال خاندان کا کافی قرب حاصل رہا ھے مولانا صاحب کی تعلیم بنیادی طور پر میٹرک ھے بعد میں انہوں نے عربی فاضل کیا کافی عرصہ تک گڑھ مہاراجہ ہائی سکول میں بطور عربی ماسٹر تعینات رھے اور ادارہ میں ایک اچھے استاد کی طرح اچھی شہرت پائی اور آج بھی تعلیم کے معاملہ میں تعلیمی اداروں کے معاملہ میں ایک دانشمندانہ سوچ رکھتے ہیں ۔ گڑھ مہاراجہ کے تعلیمی اداروں اور حفظان صحت کے اداروں اور گڑھ مہاراجہ کی نوجوان نسل کی تعمیری سرگرمیوں اور تخلیقی اقدار کے بارے کافی درد دل رکھنے والے انسان ہیں مولانا صاحب کی ذیادہ تر تعلیم وتربیت ایک دینی مدرسہ سے ھوئی ھے اس لیئے ان کی ہر تحریر و تقریر ۔ ھر سیاسی فیصلہ پر فرقہ وارانہ رنگ غالب ھوتا ھے کیونکہ مولانا موصوف بنیادی طور پر ایک شیعہ مبلغ ھیں ذاتی طور پر مذہبی تقریبات میں تقاریر اور شیعہ نقطہ نظرکی تبلیغ ان کا پیشہ ھے اسی زاویہ سے ھی ان کی شخصیت کو پرکھنا چاہئے اس سے ہٹ کر مولانا صاحب کی شخصیت کا جائزہ لینا نا مناسب ہو گا مولانا صاحب کی سیاسی۔ سماجی۔ عوامی ۔یا زمیندار حلقوں میں جو بھی عزت احترام ہے محض شیعہ مبلغ ھونے کی وجہ سے ھے عوامی یا لبرل سوچ کی وجہ سے نہیں لیکن مولانا صاحب شیعہ مبلغ ہونے کے باوجود فرقہ وارانہ جھگڑوں کو سلجھانے کے معاملہ میں خاص انداز رکھتے ھیں مختصر الفاظ میں معاملہ فہم انسان ھیں گڑھ مہاراجہ کی سیاست میں ایک خاص نقطہ نظر کے لوگوں میں کافی اثر ورسوخ رکھتے ہیں سیال خاندان میں مظفر علیخان سیال مرحوم اپنے خاص انداز سے مولانا صاحب سے اپنے حق میں سیاسی فیصلہ کروا لیا کرتے تھے مگر اپنے سیاسی فیصلوں پر مولانا صاحب کو کبھی اثر انداز نہ ھونے دیتے تھے لیکن ا پنے ساتھ بھی رکھتے تھے خان صاحب کے بعد مولانا صاحب عون عباس خان صاحب کے سیاسی فیصلوں پر کافی حد تک اثر انداز ھوئے ھیں ۔ جس وجہ سے بہت سے لبرل اور ترقی پسندانہ سوچ کے حامل لوگ خان عون عباس خان سیال سے دور ہو گئے ۔ مولانا صاحب نے کافی عرصہ تک گڑھ مہاراجہ کی جامع مسجد جعفریہ میں خطابت و پیش امام کے فرائض بھی سرانجام دئیے ہیں شیعہ فرقہ کے بہت سے لیڈر نما لوگ مولانا صاحب پر تنقید بھی کرتے ہیں لیکن جہاں شیعہ فرقہ کی نمائندگی کا سوال ھو کوئی بھی شیعہ رہنما ہونے کا دعوی دار مولانا صاحب کی لیڈری کو چیلنج کرنے کی تاب نہیں رکھتا ان کی غیبت کرنے والے بھی ان کی خوشامند کر نے پر مجبور ھوتے ھیں ۔ مولانا صاحب عوامی سیاست کا شوق تو رکھتے ھیں لیکن ان کی فرقہ وارنہ سوچ روکاوٹ بن جاتی ھے۔ گڑھ مہاراجہ کے عوامی حلقوں میں یہ بات بہت مشہور ھے کہ مولانا صا حب عون عباس خان کے مشیر خاص ھیں لیکن ان کے سیاسی مشوروں پر فرقہ وارانہ رنگ غالب ھوتا ھے ۔ گڑھ مہاراجہ کے کچھ لوگ اس بات کو تسلیم نہیں کرتے ۔
یہ بات بھی زبان زد عام و خاص ھے کہ مولانا صاحب پر جتنے بھی فرقہ واریت کی بنیاد پر مقدمات ھوئے ان کے اپنوں ھی کی مہربانیوں کی وجہ سے ھوئے ھیں تا کہ یہ ایک حد کراس نہ کرے جو یہ کر نے کی کوشش کرتے ھیں ۔
مولانا انور علی صاحب جیسا آدمی گڑھ مہاراجہ کے مخصوص مذہبی حالات کے تحت گڑھ مہاراجہ کی ضرورت ھے یہ گڑھ مہاراجہ کے ذی شعور اور معاملہ فہم حالات کے نشیب وفراز کو سمجھنے والے لوگوں کی رائے ھے خدا ان کی عمر دراز فرمائے
آمین
آئنیدہ تحریر ہوگی صاحبزادہ گروپ کے مہر فخر عباس ڈب کے بارے ضرور پڑھئے گا۔ شکریہ
سلطان نیوز

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں