204

گڑھ مہ اراجہ کی سیاسی شخصیات کے بارےجو سلسلہ تحریر شروع کیا گیا ھے آج ذکر ھو گا حقیقی عوامی شخصیت مولوی نذر عباس حیدری کا

گڑھ مہ اراجہ کی سیاسی شخصیات کے بارےجو سلسلہ تحریر شروع کیا گیا ھے آج ذکر ھو گا حقیقی عوامی شخصیت مولوی نذر عباس حیدری کا …………………….. . . . .
۔
مولوی صاحب شیعہ گڑھ مہ اراجہ کی سیاسی شخصیات کے بارےجو سلسلہ تحریر شروع کیا گیا ھے آج ذکر ھو گا حقیقی عوامی شخصیت مولوی نذر عباس حیدری کا سے تعلق رکھتے ھیں مگر کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا خواہ کسی بھی مذہب و مسلک سے ھو کہ مولوی نذر عباس حیدری میں کوئی فرقہ واریت کی کبھی بو آئی ھو گڑھ مہاراجہ کے بگڑے ھوئے حالات میں مولوی صاحب کا کردار انتہائی مثبت دکھائی دیا ھے ۔
سیاسی طور پر بھی مولوی صاحب کا کردار ہمیشہ مثبت رہا ھے جس سے بھی کوئی سیاسی
Commit ment.
کی ھے ہمیشہ اس پے پورے اترے ہیں جس کی واضع مثال رانا فقیر حسین کے مقابلہ میں چوہدری مختار جٹ ایڈووکیٹ کا الیکشن ہے جس میں سیال گروپ رانا صاحب کے ساتھ تھےاور مولوی صاحب چوہدری مختار کے ساتھ کھڑے رھے اور کامیاب ھوئے الیکشن 2002ء میں مولوی صاحب صاحبزادہ گروپ کے ساتھ مخالفین نے لاکھ جتن کئے مولوی صاحب اپنے فیصلہ میں متزلزل نہ ھوئے
مولوی صاحب گڑھ مہاراجہ کے دیگر شیعہ مذہبی رہنماوں کی طرح پیشہ ور مولوی نہ ھیں سیدھے صاف گو انسان ہیں بات کرنے کی سمجھ رکھتے ہیں سچ بولنے کا سلیقہ سمجھتے ہیں کسی سے مرعوب نہ ہوتے ھیں جس کی واضع مثال ٹاون کمیٹی گڑھ مہا راجہ کے وائس چئرمین رانا مراد علی صاحب مرحوم کے خلاف تحریک عدم اعتماد تھی جو خان مظفر علی خان سیال مرحوم کے کہنے پر پیش کی گئی تھی جن دو کونسلر نے تحریک عدم اعتماد کی حمائت نہ کی ان میں سے ایک مولوی صاحب تھے دوسرے چوہدری محمد مختار جٹ ایڈووکیٹ تھے ۔ ان کے سیاسی کردار کی دوسری مثال یہ ھے جب رانا محمد اسلم صاحب اور چوہدری محمد مختار جٹ ایڈووکیٹ کو سازشی طور پر مد مقابل لا کر خان صاحبان نے ایک سیاسی چال کے تحت چوہدری اسلم چدھڑ کو تین ماہ کے لئے اس وعدہ پر چیئرمین بنایا گیا کہ تین ماہ بعد موصوف مستعفی ھو گا پھر ٹاون کمیٹی کے کونسلر رانا اسلم یا چوہدری مختار جس کو چاھیں چیئرمیں چن لیں گے سیاسی چال یہ تھی نہ ہاوس استعفی منظور کرے گا نہ دوبارہ کوئی چئیرمین چنا جائے گا اس سیاسی Game سے چدھڑ صاحب کو ھی چئیرمین قائم رکھنا تھا یہ سب خان صاحبان کی روائتی سیاسی چال تھی حسب پروگرام اجلاس بلایا گیا جب جملہ حاضری پوری کی گئی ایک بستر مرگ پر پڑے ھوئے کونسلر زوار محمد اقبال صاحب کی چارپائی اٹھا کر اسے بھی اجلاس میں حاضر کر لیا گیا اس اجلاس میں خواتین کونسلر جو بھی خان صاحبان کی ذاتی نوکرانیاں تھیں کبھی کسی اجلاس میں حاضر نہ ہوئی تھیں وہ بھی حاضر آگئیں ھر ذی شعور سمجھ رہا تھا یہ سب کچھ استعفی نا منظور کرنے کی تیاری تھی جونہی استعفی اجلاس میں پیش ھوا اس سیاسی ڈرامہ پر بحث کرتے ھوئے کونسلر چوہدری مختار جٹ ایڈووکیٹ نے کہا شروع دن سے چوہدری اسلم صاحب کو چیئرمیں بنانے کی سیاسی چال چلائی گئی تھی آج کا اجلاس اس سیاسی چال اور ڈرامہ کا آخری سین ھے رانا اسلم کو سمجھ نہ آئے تو اس کی قسمت ھم اس منافقانہ چال کا کردار نہیں بن سکتے اس پر چوہدری صاحب اجلاس سے بائکاٹ کر گئے مولوی صاحب نے بھی یہ کہہ کر اجلاس کا بائکاٹ کر دیا کہ اس فراڈ اور جھوٹ کا حصہ بننا مجھے گوارا نہیں۔ یہ مثالیں مولوی صاحب کے سیاسی کردار کی ھیں جبکہ وہ سیال گروپ سے ھی تعلق رکھتے تھے بطور کونسلر مولوی صاحب نے اپنے حلقہ کی حق نمائندگی پوری طرح ادا کیا کمیٹی کا کام چور اور کرپٹ عملہ مولوی صاحب کے نام سے کانپتا تھا مقامی سیاست میں مولوی صاحب ذیادہ عرصہ سیال گروپ کا ھی حصہ رھے ھیں 1987ء اور 1998ء دو دفعہ کونسلر بنے ھیں ان کا حلقہ انتخاب وارڈ خان ذوالفقار خان سیال والا رہا ھے ۔ مولوی صاحب کی تعلیم میٹرک 1978ء میں کی اورعربی فاضل کی ڈگری 1984ء میں کی کچھ عرصہ گڑھ مہاراجہ میں درس و تدریس کا کام بھی کیا اسلامی اصلاحی ٹرسٹ کے تحت گڑھ مہاراجہ دربار روڈ پر دینی مدرسہ امام حسین کا نام سے تعمیر کروایا جس کے لئے رقبہ خان ذوالفقار خان سیال سے وقف کروایا اسی مدرسہ کے تحت ایک مسجد بھی تعمیر کروائی اور محلہ خان ذوالفقار خان سیال میں از سر نو امام بار گاہ تعمیر کروائی جو امام با رگاہ زینبیہ کے نام سے مشہور ھے گڑھ مہاراجہ کے سازشی اور پیشہ ور ماحول میں مولوی صاحب کا مدرسہ نہ چل سکا مولوی صاحب مذھبی سازشی عناصر سے دل برداشتہ ھو کر درس و تدریس کا کام چھوڑ کر اور تعمیر شدہ مدرسہ ٹرسٹ کے حوالے کرکے یو۔ اے۔ ای چلے گئے کئی سال گڑھ مہاراجہ کی سیاست سے غائب رہئے اب واپس آ چکے ھیں گڑھ مہا راجہ کی ہر سیاسی سماجی سر گرمیوں میں بھر پور حصہ لیتے ھیں اور سیال گروپ سے وابستہ ھیں اکثر سیاسی وسماجی تقریبات میں عون عباس خان کے ساتھ نظر آتے ھیں مولوی صاحب ذاتی طور ترقی پسند سیاسی شخصیت ھیں ھر موقع پر سچی بات کہنے کے عادی ھیں گڑھ مہاراجہ میں اپنی شیخ برادری میں بھی با اثر شخص ھیں اور عوامی حلقوں میں
بھی عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں
شکریہ۔سلطان نیوز
آئیندہ گڑھ مہاراجہ کی مذہبی +سیاسی شخصیت مولانا انور علی صاحب کے بارے تحریر ھو گی ضرور پڑھئے گا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں