35

قیمتی اثاثہ۔ اردو کون بولے گا معروف کالم نگار اعجاز علی چشتی کا اپنوں کی ستم ظریفی سہتی قومی زبان اردو کے حوالے سے زبردست انتخاب پڑھنے کے لیے لنک پرکلک کریں

قیمتی اثاثہ۔۔ اردو کون بولے گا
انتخاب: اعجاز علی چشتی
”خالہ جان…!!!“
کسی کی میٹھی آواز سنائی دی۔ میرے کان کھڑے ہو گئے لیکن بولی کچھ نہیں… بدستور برتن دھونے میں مصروف رہی۔ اتنے میں دوبارہ وہی آواز سنائی دی۔

”خالہ جان…!
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ“
خالہ جان کہتے ہوئے نہایت ادب سے سلام کیا گیا۔
اب کی بار میں رہ نہ سکی اور فوراً مڑ کے دیکھا۔
ایک سات آٹھ سال کا پیارا سا بچہ دروازے پر کھڑا تھا۔
”خالہ جان! سنیے…
کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟“

”بیٹا جی! آپ دروازے میں تو کھڑے ہی ہیں اندر بھی آ جائیں۔“
میں نے خوش دلی سے کہا۔

”جی معذرت چاہتا ہوں دراصل دروازے کا پٹ کھلا ہوا تھا تو میں اندر داخل ہو گیا۔“
ابھی تو میں اس کے ”خالہ جان“ کہنے کے سحر سے نہ نکلی تھی کہ ایسا شستہ جملہ بولا گیا… حیرت در حیرت!!
اور ابھی حیرت کے سمندر میں ہی غوطہ زن تھی کہ پھر آواز آئی…

”خالہ جان! میں آپ کے پڑوس میں رہتا ہوں۔ وہ ادھر کتھئی رنگ کے بڑے دروازے والا گھر ہمارا ہے۔ امی جان نے کہا ہے کہ آپ کسی وقت ہمارے گھر تشریف لائیے اور اگر آپ کو زحمت نہ ہو تو آج شام ہی تشریف لے آئیے۔“

میں اسے جواب کیا دیتی… میں تو ابھی تک اس چھوٹے سے بچے کی سلیقہ مند8 گفتگو کے سحر سے ہی نہ نکل پا رہی تھی۔

وہ گھر جسے ہم سب براؤن گیٹ والا گھر کہتے تھے، اردو میں ”کتھئی رنگ کا دروازہ“ کہنا کتنا خوب صورت لگ رہا تھا.. پھر اوپر سے بچے کا انداز گفتگو ایسا دل نشین…
مجھے کہیں پڑھا ہوا وہ شعر یاد آیا

میرے کانوں میں مصری گھولتا ہے
کوئی بچہ جب اردو بولتا ہے

سنیے..
تشریف لائیے…
زحمت نہ ہو تو….
خالہ جان…
کیسا مٹھاس گھولتا لفظ ہے ”خالہ جان!!“
آج کون کسی کو خالہ جان کہتا ہے…! محلے بھر کے بچے بھی اور رشتے داروں کے بچے بھی.. سب نے ایک ہی لفظ پکڑا ہوا ہے..۔ آنٹی۔۔۔!
اففف! اچانک ہی اس لفظ آنٹی سے متلی سی ہونے لگی۔

”خالہ جان!“
اس نے پھر مجھے مخاطب کیا۔
”پھر میں امی جان سے کیا کہوں آپ کے بارے میں؟“
”جی جی بیٹا! ان سے کہنا میں شام کو ضرور آؤں گی۔“
”جی بہتر! میں اب چلتا ہوں خالہ جان!“
وہ سر جھکا کے سلام کرتا ہوا چلا گیا۔ اور میں سوچتی رہ گئی ۔۔۔ یا اللّٰہ! یہ اردو تہذیب کا گم شدہ خزانہ کہاں سے اس محلے میں آ گیا۔

کسی زمانے میں اردو میری بھی کمزوری رہی تھی۔ مگر شادی کے جھمیلوں میں پڑ کے وہ ادب وہ شاعری…. سب خواب ہو گئے جیسے=۔

شام کو میں ان کے گھر پہنچی تو دروازہ ایک بچی نے کھولا جو یقیناً اسی تمیز دار بچے کی بہن تھی۔ نہایت ادب سے سلام کیا اور دائیں ہاتھ سے گھر کے اندر کی جانب آنے کا اشارہ کرتے ہوئے اسی دلربا انداز میں مسکرا کر بولی….
”اندر تشریف لائیے خالہ جان!“
میں اس کے ساتھ ہی آگے بڑھ گئی۔

ان کی والدہ اور دادی جان نے پرتپاک خیر مقدم کیا ۔
”ارے آئیے نا! آپ کا اپنا ہی گھر ہے۔ تشریف رکھیے۔“ کم عمر خاتون نے کہا جو یقیناً ان بچوں کی والدہ ماجدہ تھی۔

”دراصل ہمیں یہاں آئے ہوئے دو ماہ ہی ہوئے ہیں۔ آپ سے ابھی تک ملاقات نہیں ہو سکی تھی تو سوچا شام کی چائے مل کر پیتے ہیں۔ آپ کو ناگوار تو نہیں گزرا؟“
”ارے نہیں نہیں بالکل نہیں۔ بلکہ مجھے تو اچھا لگا، آپ نے اتنی اپنائیت سے بلایا۔“

پھر میں کافی دیر وہاں بیٹھی رہی وہ سب لوگ بہت خوب صورت گفتگو کر رہے تھے۔ لب و لہجہ آداب سے گندھا ہوا ۔۔۔ چھوٹے بچے بھی اسی انداز میں بات کررہے تھے۔ لڑ رہے تھے تو بھی اتنی تمیز سے ۔۔۔
”آپ ہماری پینسل واپس کر دیجیے ورنہ ہم بابا جان سے آپ کی شکایت کر دیں گے۔“

مجھے بے ساختہ وہ شعر یاد آیا۔۔۔

سلیقے سے ہواؤں میں جو خوشبو گھول سکتے ہیں
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اردو بول سکتے ہیں
واپس آنے لگی تو میں نے بڑی محبت و اپنائیت سے انھیں اپنے گھر آنے کی دعوت دی۔ جسے انھوں نے بڑی خوش دلی سے قبول کیا ۔۔۔ کہنے لگیں:
”چشمِ ما روشن دلِ ما شاد ۔۔۔ ضرور آئیں گے بیٹا! آپ کہیں اور ہم نہ آئیں ایسے تو حالات نہیں“۔ پھر وہ مجھے دروازے تک چھوڑنے آئیں۔ دعائیہ کلمات سے رخصت کیا، فی امان اللہ کہا۔

میں گھر آئی تو بہت کھوئی کھوئی سی تھی ۔۔۔ اردو کا ایسا بیش بہا خزانہ میرے گھر میں کیوں موجود نہیں تھا؟ میرے اردگرد سب لوگ ایسے کیوں ہیں جو اپنی روزمرہ گفتگو میں آدھے لفظ انگریزی کے بول کر خوش ہوتے ہیں اور اس پہ فخر کرتے ہیں۔
مجھے لگا میرا کوئی بہت بڑا نقصان ہو گیا ہے ۔
_____

رات کو میاں صاحب گھر آئے تو ان سے تذکرہ کرنے لگی۔
”احمد! وہ لوگ اتنے مہذب ہیں کہ کیا بتاؤں۔۔۔ آہستہ آواز میں اور بہت ٹھہرے ٹھہرے لہجے میں بات کرتے ہیں۔ ایک دوسرے کی ایسی تعظیم کرتے ہیں کہ دیکھنے والا حیران رہ جائے ۔۔۔ اور پتا ہے کیا۔۔۔؟ ان کے گھر کوئی آتا نہیں کوئی بیٹھتا نہیں۔۔۔ وہاں سب لوگ تشریف لاتے ہیں اور تشریف رکھتے ہیں۔ ان کے گھر میں ڈرائنگ روم، باتھ روم اور بیڈ روم نہیں ہیں، بلکہ وہاں مہمان خانہ ہے، خواب گاہ ہے، باورچی خانہ ہے، غسل خانہ ہے۔ اور بیڈ شیٹ کو کہتی ہیں پلنگ پوش! کتنا حسین لفظ ہے نا پلنگ پوش! ایک ہم ہیں۔۔ بیڈ شیٹ بیڈ شیٹ کرتے نہیں تھکتے۔ پورے پورے غلام ہی بن گئے ہیں انگریزوں کے۔ اور پتا ہے۔۔۔ وہ اپنے بچے کو کھانا کھلاتے ہوئے کہہ رہی تھیں بیٹا جی! آپ ٹھیک سے کھائیے اور یہ سارا ختم کیجیے۔
اور ہمارے یہاں مائیں اپنے بچوں کو کہہ رہی ہوتی ہیں ”جلدی جلدی فنش (finish) کرو، شاباش۔۔ گڈ بوائے۔۔۔۔“
اففففففف! احمد ! مجھے ان انگریزی کے لفظوں سے وحشت سی ہو رہی ہے جو ہم نے اپنی روزمرہ گفتگو میں زبردستی شامل کر لیے ہیں۔

سچ کہتی ہوں احمد! میں جب سے ان کے گھر سے آئی ہوں ایک عجیب سے سحر میں گرفتار ہوں۔ ان کی میٹھی زبان کا جادو میرے سر چڑھ کر بول رہا ہے۔۔۔ ان کی گفتگو ابھی تک میرے کانوں میں گونج رہی ہے۔۔۔ اور ان بچوں کی دادی جان تو ایسی گفتگو کرتی ہیں کہ دل موہ لیتی ہیں۔ بات بات پہ کوئی نہ کوئی شعر یا محاورہ گفتگو کو چار چاند لگا رہے تھے، مگر ایسے کہ ان میں کوئی تصنع یا بناوٹ محسوس نہیں ہو رہی تھی۔
اپنی بہو سے کہہ رہی تھیں ۔۔
”علینہ بیٹی! یہ رکابیاں یہاں تپائی پر رکھ دیجیے اور چائے کی پیالی بہن کو پکڑائیے!
مجھے پھر اردو کی رومانویت لیے ایک شعر یاد آ گیا۔۔۔

وہ کرے بات تو ہر لفظ سے خوشبو آئے
ایسی بولی وہی بولے جسے اردو آئے۔

”ارے بھئی بیگم! ہم بھی کوئی لکھنوی ادب کی بھاری بھرکم کتاب لے آتے ہیں، وہاں سے سیکھ سیکھ کر مہذب اردو بولا کریں گے۔ بس اب کھانا تو لے آؤ یار۔۔۔ بہت بھوک لگی ہے۔ یا آج اردو کے لیکچر سے ہی پیٹ بھرنا پڑے گا؟“

”آپ بیٹھیے۔۔۔ میں کھانا لے کر آتی ہوں۔“
انھیں کھانا دے کر میں پھر اردو کے نوحے پڑھنے میں مصروف ہو گئی۔۔۔

”اردو کتنی خوب صورت کتنی مہذب زبان ہے! ہم نے اسے کیوں چھوڑ دیا؟ ہم ایسے کیوں ہو گئے؟ آدھے تیتر آدھے بٹیر ۔۔ گھر کے رہے نہ گھاٹ کے۔۔۔! ہم نہ جانے کون سی تہذیب کے پیچھے دوڑنے لگے ہیں۔ نہ جانے کون سی رنگین اردو بولنے لگے ہیں! اپنا قیمتی اثاثہ کھوئے چلے جا رہے ہیں اور ہمیں احساس تک نہیں! ہمارے اسکولوں میں انگریزی پڑھائی جاتی ہے۔ ہمارے بچے اردو سے نا آشنا ہوتے جا رہے ہیں۔ ہمارے گھروں سے اردو زبان بوریا بستر سمیٹ رہی ہے اور ہم بےخبر ہیں۔ اردو سے اس دشمنی کی وجہ کیا ہے آخر ۔۔۔۔؟ ہم جانے انجانے میں کیوں اپنا نقصان کرتے چلے جا رہے ہیں… میں سوچتی رہی اور سوچتی چلی گئی۔۔۔۔!

زبانیں کاٹ کر رکھ دی گئیں نفرت کے خنجر سے
یہاں کانوں میں اب الفاظ کا رس کون گھولے گا؟

ہمارے عہد کے بچوں کو انگلش سے محبت ہے
ہمیں یہ ڈر ہے مستقبل میں اردو کون بولے گا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں