269

وبا میں اذان کی شرعی حیثیت حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے رویت ہے کہ حضور سیّدِ عالَم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: “اِذَا اَذَّنَ فِیْ قَرِیَةٍ اٰمَنَھَا اللہُ مِنْ عَذَابِهٖ فِیْ ذٰلِكَ الْیَوْمِ”

جب کسی بستی میں اذان دی جائے تو اللہ تعالی اس دن اسے اپنے عذاب سے امن دے دیتا ہےـ

[المعجم الکبیر مرویات انس بن مالك، جلد 1، صفحہ257، حدیث:746، مطبوعہ المکتبة الفیصلیه بیروت]
[فتاوی رضویہ ، جلد 5 ، صفحہ مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاھور]

وبا کے زمانہ میں اذان دینا ایک مستحب امر ہے کہ فقیہِ اجَلّ ، محققِ بےبدل ، صاحب العلم وبالفضل ، امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ لکھتے ہیں کہ:

”وبا کے زمانے میں اذان دینا مستحب ہے“

[فتاویٰ رضویہ ، جلد 5 ، صفحہ 370، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاجور]
[بہارِ شریعت ، جلد اول ، حصہ سوم، صفحہ 466، مطبوعہ مکتبة المدینہ کراچی]

کیونکہ اس وبا کی وجہ سے خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے جسکی وجہ سے عوام بھی پریشان ہے۔ اور گھبراہٹ کا شکار نظر آ رہی ہے۔ ان حالات میں بھی اذان سکونِ قلب اور خوف و ہراس دور کرنے کا سبب ہے۔

ابونعیم و ابن عساکر حضرت ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے راویت کرتے ہیں کہ حضور سرور عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:

نَزَلَ آدَمُ بِالْھِندِ فَاسْتَوْحَشَ فَنَزَلَ جِبْرَئِیْلُ عَلَیْه الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام فَنَادیٰ بِالْاَذَاَنِ

یعنی: جب آدم علیہ الصلاۃ والسلام جنت سے ھندوستان میں اترے انہیں گھبراہٹ ہوئی تو جبرئیل علیہ الصلاۃ والسلام نے اتر کر اذان دی۔

[حلیة الاولیاء مرویات عمرو بن قیس الملائی ، جلد 2، صفحہ 107، رقم:299 ، مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت]

مسند الفردوس میں حضرت جناب امیرُ المومنین مولٰی المسلمین سیدنا علی مرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم سے روایت ہے:
قَالَ رَایٰ النَّبِیُّ صَلّٰی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْهِ وَسَلَّم حُزِیْناً فَقَالَ یَا ابْنَ اَبِیْ طَالِبٍ اِنِّیْ اَرَاكَ حُزِیْناً فَمُرْ بَعْضَ اَھْلِكَ یُؤَذِّنُ فِیْ اُذُنِكَ فَاِنَّهٗ دَرْءُ الْھَّمِ

یعنی: مولا علی کہتے ہیں مجھے حضور سیّدِ عالَم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے غمگین دیکھا ارشاد فرمایا: اے علی! میں تجھے غمگین پاتا ہوں اپنے کسی گھر والے سے کہہ کہ تیرے کان میں اذان کہے، اذان غم وپریشانی کی دافع ہے۔

[مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوہ المصابیح باب الاذان ، جلد 2، صفحہ 149، مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان]

لہذا مسلمانوں کو چاہئے کہ جہاں دیگر تدابیر اختیار کر رہے ہیں وہاں اپنے اپنے گھروں میں ضرور اذانیں دیں ، گھر میں جب چاہیں اذان دے سکتے ہیں اب جبکہ علماء و مشائخ کی جانب سے اپیل کی گئی ہے تو بتاۓ وقت کیمطابق اسپر عمل کیا جاۓ اللہ کی رحمت پر پختہ یقین رکھیں ، ان شاءاللہ ہر قسم کی وبا سے حفاظت ہو گی اور خوف و گبھراہٹ دور ہونگے۔ اور اللہ کریم ﷻ امان نصیب فرمائے گا۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ اپنے حبیب ﷺ کے صدقے مسلمانوں کو ہر قسم کی بلا و آفت سے محفوظ رکھے آمین۔وَبا کے زمانے میں بھی اذان دینا مُسْتَحَب ہے

(بہارِ شریعت جـلد1، صـفحہ466. فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ جلد ـ5، صفحہ ـ370)

دنیا بھر کے مسلمانوں سے گزارش ہے کہ اپنے ملکوں، شہروں، گھر کی چھتوں پر بلند آواز سے اذان کا سلسلہ شروع کیا جائے۔

کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کے کان میں اذان دی جائے۔

جن جگہوں پر کرونا کی شدت ہے وہاں مساجد کے ذریعے اذان دی جائے۔

اذان ذکر خدا و رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بہت ہی پیاری اور پُر رحمت صورت ہے۔
جہاں کفار کے ممالک میں ذکر خدا و رسول بلند ہوگا وہیں اسکی برکات بھی ظاہر ہونگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں